Saturday, September 7, 2024

گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں برس ملک کا خسارہ تین گناہ زیادہ

گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں برس ملک کا خسارہ تین گناہ زیادہ
August 29, 2017

اسلام آباد (92 نیوز) گزشتہ مالی سال معیشت کا برا حال۔ رواں برس مزید خوفناک نتائج کا خدشہ ۔ 4900 ارب روپے کے گزشتہ مالی سال کے بجٹ میں سے 1300 ارب کا خسارہ۔ گزشتہ سال خسارہ کل بجٹ کے 27 فیصد سے بڑھ گیا۔ رواں برس خسارہ مزید بڑھ کر ریکارڈ 30 فیصد ہونے کا امکان۔ خطے میں اتنا بڑا خسارہ اور کسی ملک کا نہیں۔

گزشتہ مالی سال معیشت کا برا حال تھا۔ رواں برس مزید خوفناک نتائج کا خدشہ ۔ بڑھتے بجٹ خسارے کے پیش نظر مالیاتی اعشاریے مزید پریشانی کا باعث ہیں۔

سالانہ تجارتی خسارہ 30 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا۔ فارن کرنسی ذخائر 14 ارب ڈالر سے بھی نیچے چلے گئے- رواں مالی سال وفاقی اخراجات کا ہدف پانچ ہزار ارب روپے سے زائد جبکہ ٹیکس محصولات کا ہدف 3800 ارب روپے مقرر ہے۔

گزشتہ مالی سال ٹیکس محصولات کا خسارہ 50 ارب روپے ہے۔ اس صورتحال میں بہتری کی امید کم ہے کیوںکہ وزارت خزانہ انتشار کا شکار ہے۔ ذرائع کہتے ہیں قرض لیکر قرض اتارنے کی پالیسی سے چھٹکارہ ملنا مشکل ہے کیوںکہ بہتری کی کوئی پالیسی زیر غور نہیں۔ رواں مالی سال چھ ارب ڈالر سے زائد قرض لینا پڑیگا۔ اتنا قرض موجودہ صورتحال میں کہاں سے ملیگا؟ قرض اتارنے کی پالیسی بھی ترجیحات میں شامل نہیں ۔

سونے پہ سہاگا یہ کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی اہم فیصلہ سازی سے عملاً علیحدگی بھی پیچیدگی بڑھا رہی ہے۔ ڈپٹی چئیرمین پلاننگ کمیشن مفتاح اسماعیل کی سمریاں وزیراعظم سے ہو کر حتمی منظوری کے لئے رائیونڈ جاتی ہیں۔ یوں اہم اقتصادی فیصلے خصوصی طور پر تاخیر کا شکار ہیں۔ کوئی نہیں جانتا یہ تشویشناک صورتحال کب تک جاری رہیگی۔