Sunday, September 8, 2024

آسکرایوارڈ کی نامزدگی فہرست میں سیاہ فام اداکاروں اور ہدایتکاروں کی عدم شمولیت پر تنقید کا طوفان امڈ آیا

آسکرایوارڈ کی نامزدگی فہرست میں سیاہ فام اداکاروں اور ہدایتکاروں کی عدم شمولیت پر تنقید کا طوفان امڈ آیا
January 15, 2016
لاس اینجلس(ویب ڈیسک)آسکر ایوارڈز کی نامزدگی فہرست میں سیاہ فام اداکار اور ہدایت کار شامل نہ ہونے پر تنقید کا طوفان امڈ پڑا سوشل میڈیا میں آسکرز سو وائٹ کا ٹرینڈ دنیا بھر میں ٹاپ پر آ گیا پچھلے سال بھی آسکرز ایوارڈ کے لئے کوئی سیاہ فام نامزد نہیں ہوا تھا۔ تفصیلات کےمطابق آسکر ایوارڈز کی نامزدگی فہرست میں مسلسل دوسرے سال سیاہ فام اداکاروں اور ہدایت کاروں کو باہر رکھنے پر فلم شائقین شدید غم و غصے کا شکار ہیں سوشل میڈیا پر اکیڈمی ایوارڈز شدید متنازع ہو گئےآسکرز سو وائٹ کا ٹرینڈ ٹویٹر پر سرفہرست ہےفلم شائقین نے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس آسکرز  ایوارڈ سے زیادہ بہتر تو انیس چھتیس کے برلن اولمپکس تھےجن میں مختلف رنگ و نسل کی اقوام شامل تھیں ایک اور تبصرے میں کہا گیا کہ ہالی وڈ سیکوئل پر یقین رکھتا ہے اسی لئے دوسرے سال بھی سیاہ فام اور رنگ دار نسل کے لوگ اس سے باہر ہیں۔ آسکر ایوارڈز کی دوڑ میں سیاہ فام اداکار ادریس ایلبا مضبوط امیدوار تھے جنہیں بیسٹس آف نو نیشن میں وار لارڈ کے طور پر بہت پسند کیا گیا، ول سمتھ  اور مائیکل بی جارڈن بھی آسکر کی دوڑ میں شامل تھے جارڈن کے مقابلے میں سلویسٹر اسٹالن کو بہترین معاون اداکار نامزد کرنے پر بھی من پسند نامزدگی کا الزام عائد کیا جا رہا ہے اکیڈمی آف موشن پکچرز آرٹس اینڈ سائنس جو خود بھی سیاہ فام ہیں نے تسلیم کیا کہ سفید فام اداکاروں کے مقابلے میں سیاہ فام اداکاروں کو پیچھے رکھا گیا ہےاور اس میں بہتری لانے کی ضرورت ہے،ہالی وڈ انڈسٹری کے میگزین ورائٹی کے ایوارڈز ایڈیٹر ٹم گرے کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کی ذمہ دار اکیڈمی نہیں بلکہ ہالی وڈ اسٹوڈیوز ہیں۔