Wednesday, September 28, 2022

یوکرین میں جاری جنگ، روسی صدر نے ایٹمی ڈیٹرنٹ فورسز کو ہائی الرٹ کر دیا

یوکرین میں جاری جنگ، روسی صدر نے ایٹمی ڈیٹرنٹ فورسز کو ہائی الرٹ کر دیا
February 27, 2022 ویب ڈیسک

ماسکو (92 نیوز) یوکرین میں جاری جنگ کے باعث مغرب پر بھی خوف سے سائے طاری ہیں۔ روسی صدر نے ایٹمی ڈیٹرنٹ فورسز کو ہائی الرٹ کر دیا۔

کیا جنگ بندی ہو جائے گی، کیا مشرقی یورپ پر جنگ کے بادل جھٹ جائیں گے؟ یوکرین نے روس سے بیلاروس میں مذاکرات پر اتفاق کر لیا۔ روسی حکام سے ملاقات بیلاروس کی سرحد پر ہو رہی ہے۔ یوکرینی اور روسی حکام کے درمیان مذاکرات شروع ہو چکے ہیں۔ جنگ بندی سمیت دیگر معاملات پر بات چیت کی جائے گی۔

ادھر دنیا پر ایٹمی جنگ کے بادل بھی  منڈلانے لگے۔ روسی صدر پیوٹن نے روسی ایٹمی ڈیٹرنٹ فورسز کو الرٹ رہنے کی ہدایت کر دی گئی ۔ روسی صدر نے ایٹمی ڈیٹرنٹ فورسز کو الرٹ رہنے کے حکم کا فیصلہ یوکرین حملے کے بعد مغربی ممالک سے تناؤکے بعد کیا۔ روسی صدر کے اعلان کے بعد وائٹ ہاؤس کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔

ترجمان وائٹ ہاؤس جین ساکی کا کہنا ہے کہ روسی صدر حملہ کا جواز قابل قبول بنانے کے لئے ایسا کر رہے ہیں۔ کیا روس کو نیٹو اور یوکرین سے خطرہ ہے جو آیٹمی ڈیٹرنٹ فورس کو الرٹ کیا گیا ہے۔ امریکا نیٹو اور یوکرین کے ساتھ کھڑا ہے۔

یوکرین پر روسی حملے چوتھے روز بھی جاری رہے۔ دارالحکومت سمیت متعدد شہروں کے گلی محلوں اور سڑکوں پر لڑائی جاری ہے۔ کیف کے بعد روسی فوج  خار کیف میں بھی داخل ہو گئی۔ یوکرین کے صدارتی آفس کے مطابق روس کی فوج نے خار کیف شہر میں گیس پائپ لائن اڑا دی ہے۔

یوکرائنی وزیر دفاع حینا ملیار نے دعوی کیا ہے کہ یوکرین نے 4 دنوں میں روس کے 43 سو فوجی ہلاک، 146 ٹینک، 27 جنگی جہاز اور 26 ہیلی کاپٹرز تباہ کر دئیے ہیں۔

ادھر امریکا  نے یوکرین  کو ساڑھے  تین  ملین   ڈالر  کے جدید ہتھیار  فراہم  کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ جرمنی یوکرین کو ایک ہزار   ٹینک  شکن اسٹنگ میزائل  فراہم کرے گا ۔

عالمی طاقتوں کی جانب سے روس پر پابندیوں کاسلسلہ بھی جاری ہے۔ برطانیہ  ، جرمنی ،فرانس ،فن لینڈ اور آئرلینڈ سمیت  کئی یورپی ممالک  نے روسی   پروازوں پر پابندی  لگا دی۔ روس   نے جوابی  کارروائی   کرتے ہوئے  برطانیہ   اور بالٹک ممالک  کے لئے فضائی حدود بند کر دی۔

ماسکو نے بھی کئی ممالک کے طیاروں کو اپنی فضائی حدود سے پرواز کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔ ادھر فرانس نے روس پر عائد پابندیوں کی خلاف ورزی پر روسی کارگو بحری جہاز کو قبضے میں لے لیا ہے۔

انٹرنیشنل جوڈو فیڈریشن نے روسی صدر کو اعزازی صدر اور ایمبیسڈر کے عہدوں سے معطل کر دیا ہے جبکہ یورپ کی جانب سے پابندیوں کے جواب میں روس تخفیف اسلحہ معاہدوں سے علیحدہ ہوسکتا ہے۔ مغرب سے تعلقات مکمل طور پر ختم کرسکتے ہیں، ان کے اثاثے منجمد کر سکتے ہیں۔