Wednesday, September 28, 2022

یوکرین کیلئے جنگ کا سخت ترین امتحان، روس اپنی ستر فیصد افواج یوکرین کے اندر لے آیا

یوکرین کیلئے جنگ کا سخت ترین امتحان، روس اپنی ستر فیصد افواج یوکرین کے اندر لے آیا
March 1, 2022 ویب ڈیسک

کیف (92 نیوز) - یوکرین کیلئے آج جنگ کا سخت ترین امتحان ہے۔ روس اپنی ستر فیصد افواج یوکرین کے اندر لےآیا۔

روس اور یوکرین کی فوج کے درمیان دارالحکومت کیف سمیت متعدد شہروں میں شدید لڑائی جاری ہے۔ گلی محلوں میں گھمسان کا رن پڑا ہے۔

یوکرین میں صبح کا آغاز ایئر سائرن سے ہوا۔ مغربی شہروں ترنوپل، وینتسیا، ریون، چرکیسی اور کروپیوینی تسکی میں بھی فضائی حملوں کے سائرن بجائے جا رہے ہیں۔ روسی فوج کی خار کیف پر شدید گولہ باری جاری ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق خارکیف کی سرکاری عمارت پر میزائل حملے میں 10 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔  خیرسون شہر پر بھی حملہ کر دیا گیا۔

خیرسون کے میئر کے مطابق روسی فوج کے ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا جبکہ شہر کے تمام داخلی راستوں پر چیک پوسٹس بھی قائم کر لی ہیں۔

یوکرینی حکام کے مطابق سومی شہر میں اوختیرکا کے فوجی اڈے پر روس کے حملے میں 70 فوجی ہلاک ہوئے۔ حملے کے نتیجے میں یوکرین کا فوجی یونٹ تباہ ہوا۔ امدادی کارکن اور رضاکار ابھی تک ملبے سے لاشوں کو نکال رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق روسی حملوں میں 536 عام شہری مارے جا چکے ہیں جن میں 16 معصوم بچے بھی شامل ہے۔ دوسری جانب کیف سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی بھی جاری ہے۔ اب تک 5 لاکھ 80 ہزار افراد کیف چھوڑ چکے ہیں۔

امریکا  نے  اقوام  متحدہ امن مشن   میں موجود 12 روسی سفارت کاروں  کو 7مارچ تک ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔ امریکا کی طرف سے ان پر جاسوسی کا الزام عائد کیا  گیا ہے جبکہ کینیڈا نے روس  سے خام  تیل کی تمام درآمدات   پر پابندی عائد کر دی۔ کینیڈین وزیر اعطم جسٹن ٹروڈو کہتے ہیں یوکرین کو ٹینک شکن ہتھیار اور گولہ بارود بھی  فراہم کریں گے۔

آسٹریلوی وزیرِ اعظم اسکاٹ موریسن  نے بھی یوکرین کو مہلک ہتھیار دینے کا اعلان کردیا ہے۔ اسکاٹ موریسن   کے مطابق آسٹریلیا یوکرین کو 70 ملین ڈالر کے میزائل، گولہ بارود، دیگر ملٹری ہارڈ ویئر فراہم کرے گا۔ یوکرین کو نیٹو کے ذریعے مہلک، غیر مہلک دفاعی امداد فراہم کریں گے۔

ادھر اقوام متحدہ کے  سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا  جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی سوچ ناقابل فہم ہے۔