Tuesday, August 9, 2022

وراثتی حقوق کی تلاش میں سرگرداں خواتین - - - کچھ بن جاتی ہیں داستان بھی!

وراثتی حقوق کی تلاش میں سرگرداں خواتین - - - کچھ بن جاتی ہیں داستان بھی!
July 6, 2022 ویب ڈیسک

سینئر تجزیہ نگار (کاشف شمیم صدیقی) 

ہمارے معاشرتی نظام میں خواتین کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے، ان مسائل کو اگر لکھنے بیٹھا جائے تو اوراق کا ڈھیر لگ جائے، سنانے لگیں تو سماعتیں بوجھل ہو جائیں، محسوس کریں تو درد اور اذیت کا احساس غالب آجائے، غرض یہ کہ عورتوں کو درپیش مصائب کا لا متناہی سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا، خواتین کو وراثتی جائیداد میں حق نہ ملنا بھی پاکستان کے اہم ترین مسئلوں میں شمار کیا جاتا ہے، معاملات کی سنگینی کا اندازہ ہمیں اپنے اردگرد موجود متاثرہ خواتین کی افسوسناک داستانوں سے بخوبی ہو سکتا ہے، طاہرہ سلطانہ کو ہی دیکھ لیجیے، لاہور میں رہتی ہیں، عمر رسیدہ ہیں، گذرے وقت کو یاد کرکے اکثر آبدیدہ ہو جاتی ہیں، خاوند آرمی آفیسر تھے، سال 1964 میں ا للہ کو پیارے ہو گئے، طاہرہ صاحبہ گھریلو خاتون تھیں، شوہر چونکہ انُکا واحد سہارا تھے اس لیے اُنکے انتقال کے بعد وہ زندگی کی اذیتوں، مصیبتوں اور پریشانیوں کا سامنا کرنے کے لیے قطعی تیار نہیں تھی، ہمہ وقت بس یہی خیال ستائے رکھتا کہ اب ہو گا کیا، کہاں جائیں گے، کیسے گزارا ہو گا، رہیں گے کہاں، تین چھوٹے بچوں کیساتھ زندگی کا طویل سفر کیسے کٹے گا، انکی ُپڑھائی لکھائی کا عمل کیسے جاری رہے گا، یہ تمام باتیں اُنہیں سخت پریشان اور ذہنی ہیجان میں مبتلا کیے رکھتی تھیں۔

بہر حال، وقت گزرا، حالات نے زرا سی کروٹ بدلی اور ہوا کچھ یوں کہ وہ اپنے والدین کے پاس واپس چلی گئیں، اپنوں کا ساتھ ملا تو جینے کی، آگے بڑھنے کی کچھ امید بندھی، انُکے مرحوم شوہر کی لاہور میں جوائنٹ پراپرٹی تھی، جائیداد میں طاہرہ صاحبہ کا بھی حصہ بنتا تھا، انہوں نے مانگا، لیکن نہیں دیا گیا، چناچہ 1970 میں لاہور کے سول کورٹ میں مرحوم شوہر کی وراثت کا مقدمہ دائر کر دیا، اُنکا کہنا ہے کہ کورٹ میں شازونادر ہی عورتیں دیکھی جاتی ہوں لیکن میں کئی برس وہاں جاتی رہی تھی، ہمارے قانونی نظام کا شعور رکھنے والے یہ با آسانی سمجھ سکتے ہیں کہ کس قدر تگ و دو، مشکلات اور پیچیدگیوں کا سامنا میں نے کیا ہو گا، وقت گزرتا رہا اور میں ایک اعصاب شکن قانونی جنگ لڑتی ر ہی۔

 62 سالہ ندیم رشید طاہرہ سلطانہ کے اکلوتے بیٹے ہیں، بتاتے ہیں کہ جب چھوٹے تھے تو کیس سے متعلقہ کاغذی کاروائیوں میں کافی ٹائم صرف ہو جاتا تھا، جسکی وجہ سے اُنکی تعلیم اور دیگر معاملاتِ زندگی شدید متاثر ہوئے تھے،  وہ اپنی والدہ کو سپورٹ کر تو رہے تھے لیکن خود کافی حد تک ڈسٹرب رہتے تھے، اُنکی دو بہنوں میں سے ایک کا انتقال ہو چکا ہے، ندیم اپنی بہن کی موت کا ذمے دار نامصائب حالات کو ٹھہراتے ہیں۔

 طاہرہ سلطانہ کے مطابق اُنکا کیس سیشن اور ہائی کورٹ سے ہوتا ہوا سپریم کورٹ پہنچا اور 2002 میں یہ فیصلہ آیا ( جسے مختصرا یوں ہی لکھا جاسکتا ہے) کہ چونکہ پراپرٹی بہت بڑی ہے، اسے ایک فرد نہیں خرید سکتا اور نہ ہی پارٹیشن ہو سکتی ہے، اس لیے اسکی نیلامی کی جائے اور نیلامی کے تحت خریدنے والے کو اسکا فوری قبضہ دیا جائے، طاہرہ صاحبہ اس فیصلے سے بہت خوش تھیں، لیکن دوسری جانب انہیں قطعی یہ احساس نہیں تھا کہ جائیداد کی نیلامی (با وجوہ ء دیگر) نہیں ہو سکے گی۔

طاہرہ صاحبہ 90 برس کی ہو چکی ہیں، انہوں نے اب عدالتوں میں جانا چھوڑ دیا ہے، جس دن تاریخ ہوتی ہے وہ فون پر رپورٹ لے لیتی ہیں لیکن عمر رسیدہ ہونا اُنکے جذبوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنا ہے، گزرتے وقت نے اُنکی امیدوں کو توڑا نہیں بلکہ جلاِ بخشی ہے، اُنکی عشروں پر مبنی جدوجہد نہ صرف خواتین کو حوصلہ، عزم اور ہمت فراہم کرنے کا سبب بن رہی ہے بلکہ ہمارے قانونی نظام میں موجود چیلنجز پر بھی توجہ دلانے میں کامیاب ہے۔

ہمارے ملک میں نہ جانے کتنی ایسی خواتین ہیں جنہیں وراثتی جائیداد میں اُنکا حصہ نہیں مل رہا، وجوہات چاہے جو بھی ہوں ضرورت اس امر کی ہے کہ عورتوں سے متعلقہ نہ صرف جائیداد بلکہ تمام تر سماجی اور قانونی مسائل کے حل کے لیے موئثر، ٹھوس اور بروقت اقدامات عمل میں لائے جائیں، مصائب کی چکی میں پستے افراد کی معاونت کے حوالے سے بات کی جائے تو انفرادی، اجتماعی، شخصی اور مختلف آرگنائزیشنز کی جانب سے فراہم کردہ مدد اس سلسلے میں مفید ثابت ہو سکتی ہے، طاہرہ سلطانہ کے کیس کو عوام الناس کے سامنے لانے میں لیگل ایڈ سو سائٹی کا کردار اہم ہے، مفت قانونی مشاورت اور معاونت کی فراہمی کے حوالے سے جانے پہچانے جانے والے اس ادارے کے جہاں اور دوسرے پروگرامز پاکستان میں کام کر رہے ہیں وہیں ویمن رائٹس ٹو  لیگل پراپرٹی (Women's Rights to Legal Property) کے نام سے جاری  پروجیکٹ خواتین کو جائیداد میں اُنکے حقوق کے حوالے سے مکمل آگاہی فراہم کر رہا ہے۔

سندھ میں لاڑکانہ، شہید بینظیر آباد اور کراچی میں کام کرتے اس پروجیکٹ  کے ذریعے ہزاروں عورتیں اپنے حقوق سے پوری طرح آگاہی حاصل کر چکی ہیں،عدالتوں میں دائر مقدمات کی صورت میں ادارہ انہیں مکمل سپورٹ بھی فراہم کر رہا ہے، کمیونٹی موبلائزیشن اور اویرنس سیشنز اس پروجیکٹ کا خاصہ ہیں، اس ضمن میں تربیت یافتہ پیرالیگلز (Paralegals) اور لیگل ایڈ سوسائٹی کا فیلڈ اسٹاف اپنے اہداف کی تکمیل میں مصروفِ عمل ہے۔