Monday, October 3, 2022

صرف آزادی چاہیے: کشمیری رہنماﺅں کا بھارتی وفد کو دوٹوک جواب

صرف آزادی چاہیے: کشمیری رہنماﺅں کا بھارتی وفد کو دوٹوک جواب
سرینگر (ویب ڈیسک) بھارت کے سابق وزیرخارجہ یشونت سنہا کی قیادت میں بھارتی وفد نے کشمیری رہنماوں میرواعظ عمر فاروق اور سید علی گیلانی سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماوں نے بھارتی وفد سے کہا کہ کشمیری عوام آزادی چاہتے ہیں۔ بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں غیرانسانی پالیسیاں بند کرے۔ تفصیلات کے مطابق منگل کی دوپہر بھارت کے سابق وزیرخارجہ اور بی جے پی کے رہنما یشونت سنہا کی قیادت میں ایک وفد نے کشمیری رہنما میر واعظ عمر فاروق سے ملاقات کی۔ بھارتی وفد میں سابق وائس ایئر مارشل کپل کاک‘ مذاکرات کار وجاہت حبیب اللہ، صحافی بھارت بھوشن اور ایک این جی او کی سربراہ سوشوبھا بھاروے شامل تھے۔ وفد نے اس سے پہلے کشمیری رہنما سید علی گیلانی سے بھی ملاقات کی۔ میرواعظ نے مذاکرات کے بعد پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا ہم نے اٹل بہاری واجپائی کے زمانے میں بات چیت کا راستہ اختیار کیا تھا۔ انہوں نے کہا بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں بچوں کو اندھا کرنے، انھیں قید کرنے اور ہلاک کرنے کا فوجی آپریشن کررہی ہے۔ ساڑھے تین ماہ سے جاری ہڑتال پر نظرثانی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں میر واعظ عمرفاروق نے کہا کہ کشمیر کی سو روز سے زائد جدوجہد بھارت کے جبر کے خلاف لوگوں کی اخلاقی فتح ہے۔ دوسری طرف کشمیری رہنما یاسین ملک کو علالت کے باعث جیل سے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ ان کی جماعت لبریشن فرنٹ کے مطابق وفد کے نمائندوں نے ان کے ساتھ ملاقات کی خواہش ظاہر کی تھی تاہم انہوں نے انکار کردیا۔ میرواعظ عمرفاروق‘ یاسین ملک اور سید علی گیلانی بھارتی حکومت کے ساتھ مذاکراتی ایجنڈے کے حوالے سے ایک ہی صفحے پر ہیں۔ تینوں کا کہنا ہے کہ جب تک بھارتی حکومت کشمیر کو ایک منتازعہ خطہ تسلیم نہیں کرتی مذاکرات کی سبھی کوششیں وقت کا ضیاع ہوں گی۔ مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے والے اس بظاہر غیرسرکاری وفد کے سبھی ارکان کشمیر کے بارے میں ٹریک ٹو مذاکرات یا خفیہ ڈائیلاگ کا حصہ رہے ہیں۔