Monday, May 16, 2022

اللہ نے نیوٹرل ہونے کی اجازت ہی نہیں دی، وزیراعظم

اللہ نے نیوٹرل ہونے کی اجازت ہی نہیں دی، وزیراعظم
March 25, 2022 ویب ڈیسک

مانسہرہ (92 نیوز) – وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ اللہ نے نیوٹرل ہونے کی اجازت ہی نہیں دی، اللہ تعالیٰ کا حکم ہے بدی کے خلاف جہاد کریں۔

جمعہ کے روز مانسہرہ جلسے سے خطاب کر تے ہوئے کہا 25 کروڑ دے کر ضمیر خریدے جارہے ہیں، 3 چوہے میرا شکار کرنے نکلے ہیں، انہیں شکست دوں گا۔ ان کو این آر او دینا پاکستان سے غداری ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا فضل الرحمٰن دین کے نام پر 30 سال سے سیاست کررہا ہے، اسلام آباد میں ضمیر خریدنے کے لیے 20 ، 25 کروڑ کی آفر کی جارہی ہے۔ ہر جلسے میں کہتا ہوں کہ فضل الرحمٰن کو ڈیزل نہیں کہوں گا، جب بھی تقریر کرنے کے لیے کھڑا ہوتا ہوں تو سارے پنڈال سے ڈیزل کی آوازیں آنا شروع ہوجاتی ہیں۔ برے اور مشکل وقت میں پوری کوشش کی کہ ڈیزل کی قیمت کم کی جائے۔

اُنہوں نے کہا کہ میں اللہ اور اپنے نبی کریمﷺ کا نام ووٹ لینے کے لیے نہیں لیتا، میں وہ کھلاڑی ہوں جو دنیا کرکٹ کا سپر اسٹار رہ چکا ہے، ہمارے نوجوان ملک کا مستقبل ہیں، نوجوانوں کو سکھانا چاہتا ہوں کہ تباہی کا راستہ کون سا ہے اور کامیابی کا کون سا۔

اُن کا کہنا تھا کہ اللہ سے ہمیشہ یہی دعا کرتے ہیں اس راستے پر لگا جس میں تو نے نعمتیں بخشیں، نوجوانو! یاد رکھنا ہمیشہ آپ کے سامنے دو راستے آئیں گے، صالح محمد کے سامنے بھی دو راستے تھے، ایک راستہ تھا کہ پیسے لے کر عمران خان کی برائی کرے، کہے کہ میرا ضمیر جاگ گیا ہے، دوسرا راستہ مشکل ہے لیکن وہ نبی اکرمﷺ کا راستہ ہے جو آسان نہیں، حق اور سچ کا راستہ آسان نہیں مشکل ہوتا ہے۔

عمران خان نے نوجوانو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’ نوجوانو انسان کی عظمت کا راستہ ہی مشکل راستہ ہے، آپ کا جتنا رزق لکھا ہے وہ اللہ کے ہاتھ میں ہے، عزت اور ذلت بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے، کوئی انسان دوسرے انسان کو ذلیل نہیں کرسکتا کیونکہ عزت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ انسان نے کس وقت دنیا سے جانا ہے یہ بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے، بزدل آدمی وہ ہوتا ہے جس میں ایمان نہیں ہوتا، ایمان والے کی نشانی ہوتی ہے اس کی کوئی قیمت نہیں ہوتی، اسے کوئی خرید نہیں سکتا، صالح محمد کو سب کے سامنے خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔‘‘

وزیراعظم نے کہا کہ اللہ کا شکرادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھ سے اور میری حکومت سے وہ کام لیا جو کسی سے نہیں لیا تھا۔ 57 اسلامی ممالک کے باوجود ہماری حکومت نے اقوام متحدہ میں اسلاموفوبیا کے خلاف قرارداد پیش کی۔ ہماری حکومت نے کہا 15 مارچ کا دن دنیا بھر میں اسلاموفوبیا کے نام سے منایا جائے۔ آزادی اظہار کے نام پر ہمارے رسولﷺ کی شان میں گستاخی کی جاتی تھی۔ جس معاشرے میں عدل و انصاف نہیں وہ معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا، جس راستے پر ہم لگے ہوئے ہیں میرا ایمان ہے پاکستان دنیا میں مثال بن جائے گا کہ انسانیت کا نظام کیسا ہوتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم ہیتھ کارڈ لے کر آئے ہیں، ہر خاندان کو 10 لاکھ روپے کی ہیلتھ انشورنس دے رہے ہیں، احساس پروگرام کے تحت 2 کروڑ غریب خاندانوں کو 14 ہزار روپے دے رہے ہیں۔ احساس راشن پروگرام کے تحت اشیائے ضروریہ پر سبسڈی دے رہے ہیں۔ 20 لاکھ خاندانوں کیلئے گھر بنانے کے لیے سود کے بغیر 20 لاکھ روپے قرض دے رہے ہیں۔ کاروبار کے لیے بغیرسود 5 لاکھ کا قرضہ دے رہے ہیں، اسی خاندان کے ایک فرد کو ٹیکنیکل ٹریننگ دی جارہی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ ماضی کے حکمرانوں نے ملک کا پیسہ چوری کرکے باہر بھیجا، ہمارے حکمرانوں نے جن ملکوں میں پیسہ بھیجا اسی کے غلام بن گئے، پاکستان نے جس ملک کا جنگ میں ساتھ دیا اسی نے ہمارے ملک پر 400 ڈرون حملے کیے۔ جو دولت کے غلام ہوں وہ مذمت کرنے کی جرات نہیں کرسکتے۔ پاکستانیوں کو ہر قسم کی ذلت اٹھانا پڑی۔

اُن کا کہنا تھا کہ جب وزیراعظم بنا تو سوچ لیا تھا میرا ملک کبھی کسی کی غلامی نہیں کرے گا۔ ہم دوستی سب سے کریں گے، بھارت سے بھی اس وقت دوستی کریں گے جب کشمیریوں سے انصاف کرے گا۔ بھارت کشمیر کا اسٹیٹس واپس کرتا ہے تو اس سے بھی بات کرنے کو تیار ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ میں دنیا میں سبز پاسپورٹ کی عزت کرا کر دکھاؤں گا۔ ایک ذمہ داری ریاست اور دوسری ذمہ داری عوام کی ہوتی ہے، اللہ کا حکم ہے کہ بدی کے خلاف جہاد کریں،وزیراعظماللہ نے اچھے اور برے کی جنگ میں نیوٹرل ہونے کی اجازت ہی نہیں دی۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا معاشرہ امر بالمعروف پر نہیں چل رہا لیکن مغرب کا چل رہا ہے، مغرب میں مقصودچپڑاسی کے اکاؤنٹ میں 375کروڑ اور دوسرے نوکروں کے اکاؤنٹ میں 1600 کروڑ آجائے تو سارا معاشرہ اس کے خلاف کھڑا ہوجاتا ہے۔

عمران خان نے نوازشریف کے حوالے سے کہا کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ بھگوڑا ملک چھوڑ کر بھاگ جائے، پاناما میں انکشاف ہو کہ بیٹی کے نام پر لندن کے مہنگے علاقے میں فلیٹ خریدے ہوئے ہیں۔ پہلے جھوٹ بول کر سعودی عرب گیا اور پھر بیماری کا جھوٹ بول کر باہر چلا گیا۔ باہر کے ممالک میں جھوٹ بولنے پر وزیراعظم کو استعفیٰ دینا پڑتا ہے، یہاں جھوٹ پر جھوٹ بولنے والا لیڈر بنا لندن میں بیٹھا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ یہ سارے چوہے اس لیے اکٹھے ہوئے ہیں اور کہتے ہیں کہ ملک میں بہت بُرے حالات ہیں، سب کے سامنے چیلنج کرتا ہوں پاکستان کی تاریخ میں ساڑھے تین سال میں کسی حکومت نے اس طرح کی کارکردگی نہیں دکھائی جو تحریک انصاف کی حکومت نے دکھائی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آج پاکستان کی تاریخ کی سب سے زیادہ ایکسپورٹ ہے، تاریخ کا سب سے زیادہ ٹیکس اکٹھا ہوا، بیرون ملک سے آنے والی ترسیلات زر سب سے زیادہ ہیں، چار بڑی فصلوں کی تاریخی پیداوار ہوئی، کسانوں کے پاس اتنا پیسہ گیا جتنا کبھی تاریخ میں نہیں آیا تھا۔ آج ٹیکسٹائل کی ریکارڈ ایکسپورٹ ہے، پچھلے دور میں ٹیکسٹائل انڈسٹری بند ہورہی تھی، آج ٹیکسٹائل کے لیے مزدور نہیں مل رہے۔ دو سال میں آئی ٹی کی ایکسپورٹ 75 فیصد بڑھیں، ہم دیکھ رہے ہیں ملک کو صرف آئی ٹی کا شعبہ ہی اٹھا دے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ریکوڈک کے معاملے پر پاکستان کو 2ہزار ارب روپے کا جرمانہ ہوا تھا، 3 سال ہم نے مسلسل مذاکرات کرکے ریکوڈک کا مسئلہ حل کیا، جو کمپنی چھوڑ کر چلی گئی تھی وہ واپس آگئی ہے۔ اب وہ کمپنی پاکستان میں 9 ارب ڈالر خرچ کرے گی، بلوچستان کی تقدیر بدل جائے گی، پاکستان میں ڈالرز آئیں گے۔

اُنہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے ن لیگ کے دور کی نسبت 23 کروڑ روپے فی کلومیٹر سڑکیں سستی بنائیں، سستی سڑکیں بنا کر قوم کا ایک ہزار ارب روپے بچایا، ہم خسارے میں جانے والے ریلوے کو منافع میں لے آئے ہیں جس پر اعظم سواتی مبارکباد کے مستحق ہیں۔ قطر کے ساتھ گیس کا نیا معاہدہ کرکے اگلے دس سال میں قوم کا 700 ارب روپے بچایا ہے۔ یہ سارا پیسہ قوم پر ہی لگے گا۔

عمران خان بولے کہ مجھے ن تین چوہوں پر تھوڑا سا ترس بھی آرہا ہے، چوہا نمبر ون شہبازشریف نے اپنی اچکن سلوا لی تھی، وزیراعظم کے خواب دیکھ رہا تھا، شہبازشریف تم اپنی اچکن سنبھال کر رکھ لو، وہ کسی اور کو ہی دینی پڑے گی۔ اس نے بڑے بڑے بیان دیئے کہ عمران خان کو یورپی یونین پر تنقید نہیں کرنی چاہئے تھی، اس نے کہا کہ میں اگر ہوتا تو ایبسولوٹلی ناٹ نہ کہتا امریکیوں کو ناراض نہ کرتا۔ اس نے کہا میں تو جو بھی بوٹ دیکھتا ہوں پالش کرنا شروع کردیتا ہوں، شہبازشریف میں تمہارا نام چیری بلوسم رکھ دیتا ہوں۔

وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ شریف خاندان کے دن اب قوم کو لوٹنے کے چلے گئے ہیں، شریف خاندان اب لندن میں ہی سیاست کرے گا، اگر شریف خاندان نے انگلینڈ میں سیاست کی تو کچھ ہی عرصے کے بعد انگلینڈ پاکستان سے قرضے مانگے گا، ساری قوم کو 27 مارچ کو اسلام آباد جلسے میں شرکت کی دعوت دیتا ہوں، آپ نے باہر نکل کر چوہوں کو بتانا ہے کہ پاکستانی قوم امربالمعروف کے ساتھ کھڑی ہے۔ ساری قوم تمہیں یہ بتانے کے لیے نکلے گی کہ قوم تمہاری سیاست کی قبر کھود رہی ہے۔ ان کی سیاست کے جنازے پر نیا پاکستان کھڑا ہورہا ہے، ہم وہ نظام لائیں گے جو عظیم قوم اور عظیم ملک بنائے گا۔