Friday, May 27, 2022

توہین مذہب الزامات، جہاں وقوعہ ہوا تحریک انصاف کی قیادت وہاں موجود نہ تھی، اسلام آباد ہائیکورٹ

توہین مذہب الزامات، جہاں وقوعہ ہوا تحریک انصاف کی قیادت وہاں موجود نہ تھی، اسلام آباد ہائیکورٹ
May 14, 2022 ویب ڈیسک

اسلام آباد (92 نیوز) - پی ٹی آئی قیادت پر توہین مذہب کے الزامات سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ نے بڑا حکم نامہ جاری کردیا۔ مذہب کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کو روکنے سے متعلق حکومت کو اقدامات کی ہدایت کردی۔

پی ٹی آئی قیادت کے خلاف توہین مذہب مقدمات سے متعلق دائر درخواستوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پانچ صفحات پر مشتمل تحریری حکمنامہ جاری کردیا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کہ وفاقی حکومت مذہبی جذبات کے غلط استعمال کے مبینہ تاثر کو زائل کرنے کے لیے اقدامات کرتے ہوئے یقینی بنائے کہ پی ٹی آئی قیادت کے واقعہ میں ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد کے بغیر مقدمہ درج نہیں ہو گا۔

تحریری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کے مطابق عمران خان اور پی ٹی آئی قیادت کے خلاف انتقامی کارروائیاں کی جا رہی ہیں، سعودی عرب واقعے کے مقدمات سیاسی طور پر پاکستان میں درج کیے جا رہے ہیں۔سعودی حکام نے حکومت پاکستان کو پی ٹی آئی قیادت کو مشتبہ قرار دینے کی کوئی اطلاع نہیں دی۔ ماضی میں ریاستی عناصر کی جانب سے مذہب کے غلط استعمال نے لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالیں جسے سامنے رکھتے ہوئے ریاست اقدامات کرے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ مذہب کی بنیاد پر غلط مقدمات سے پیدا مشال خان اور سری لنکن شہری کے بہیمانہ قتل جسے ماورائےعدالت قتل اور عدم برداشت ماحول کا باعث بنا، جو نہ صرف بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور آئین کے تحت چلنے والے معاشرے میں صرف ناقابل برداشت ہیں بلکہ مذہب یا مذہبی جذبات کا ذاتی یا سیاسی مفادات کے لیے استعمال خود سے توہین مذیب ہے۔