Thursday, May 19, 2022

تحریک عدم اعتماد پر رولنگ کا معاملہ، پیپلزپارٹی کی فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد

تحریک عدم اعتماد پر رولنگ کا معاملہ، پیپلزپارٹی کی فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد
April 4, 2022 ویب ڈیسک

اسلام آباد (92 نیوز) - سپریم کورٹ نے پیپلزپارٹی کی تحریک عدم اعتماد پر ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ پر فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد کر دی۔

آئینی بحران پر سپریم کورٹ میں اہم ترین سماعت ہوئی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کیا اسپیکر آرٹیکل 5 کا حوالہ بھی دے تو تحریک عدم اعتماد مسترد نہیں کرسکتا۔ بتایا جائے ارکان اسمبلی کو غدار قرار دینے کی رولنگ غیر قانونی کیسے ہوئی؟ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ میں پارلیمانی کمیٹی کا بھی ذکر ہے۔ اپوزیشن نے کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔

پیپلزپارٹی کے وکیل فاروق نائیک نے جواب دیا جس خط کا ذکر ہوا وہ اسمبلی میں پیش نہیں کیا گیا۔ چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا آپ کہتے ہیں عدم اعتماد پر ووٹنگ فکس تھی  اور ووٹنگ پر فکس ہونے کے بعد عدم اعتماد مسترد نہیں ہو سکتی ہمیں یہ پوائنٹ نوٹ کرنے دیں۔

چیف جسٹس نے سوال پوچھا تحریک عدم اعتماد کی اجازت اسپیکر دیتا ہے یا ایوان؟ اس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا اسپیکر ہاؤس میں قرارداد پیش کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا تحریک عدم اعتماد پر ڈائریکٹ ووٹنگ کا دن کیسے دیا جا سکتا ہے؟ رولز میں تو ووٹنگ سے پہلے بحث کرانا ضروری تھا، رولز کے مطابق تین دن بحث ہونا تھی، بحث کرائے بغیر ووٹنگ پر کیسے چلے گئے؟ تین اپریل کو بحث ہوتی تو 4 اپریل کو بھی ووٹنگ ہو سکتی تھی۔

فاروق نائیک نے کہا فواد چودھری کے پوائنٹ آف آرڈر پر بحث ہو سکتی تھی۔

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کیا ان کے خیال میں ڈپٹی اسپیکر کو ایسی رولنگ دینے کا اختیار نہیں تھا۔ رول 28 کے تحت رولنگ اسپیکر خود دے سکتا ہے کوئی اور نہیں۔ آئین کے تحت ڈپٹی اسپیکر صرف اجلاس کی صدارت کرسکتا ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے پوچھا کیا ووٹنگ کیلئے اجلاس بلا کر تحریک عدم اعتماد پر رولنگ دی جا سکتی ہے؟ تحریک عدم اعتماد پر فیصلہ ووٹنگ سے ہی ہونا ہوتا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ کیا تحریک عدم اعتماد پر بحث کے دوران اسپیکر تحریک کے غیر قانونی ہونے کی رولنگ دے سکتا ہے؟
اس پر فاروق نائیک نے کہا اسپیکر کے پاس کوئی اختیار نہیں کہ تحریک عدم اعتماد غیر قانونی قرار دے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ پروسیجرل خلاف ورزی ہے یا آئینی خلاف ورزی؟ فارق نائیک نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ آئینی خلاف ورزی ہے۔

پانچ رکنی لارجر بینچ کے سامنے پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے فل کورٹ بینچ بنانے کی استدعا کی۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کیا بتانا پسند کریں گے کون سے آئینی سوالات پر فل کورٹ کی ضرورت ہے؟ اگر آپ کو بنچ میں کسی پر اعتراض ہے تو بتا دیں ہم اٹھ جاتے ہیں؟ اس پر فاروق ایچ نائیک نے جواب دیا انہیں عدالت پر مکمل اعتماد ہے۔

چیف جسٹس نے سوال پوچھا آرٹیکل 69 پر عدالتی دائرہ اختیار کیا ہے؟ غیر قانونی، غیر آئینی اقدام اور بد نیتی سے متعلق عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیں۔ اس پر فاروق ایچ نائیک نے آرٹیکل 69 کے دائرہ اختیار سے متعلق 4 عدالتی فیصلوں کا حوالہ دے دیا۔

دوران سماعت فاروق ایچ نائیک نے کہا صدر نے عبوری حکومت کے قیام تک عمران خان کو قائم مقام وزیراعظم مقرر کیا ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا عبوری حکومت کے قیام سے قبل فیصلہ کرنا ہوگا۔

دوران سماعت حکومتی وکیل بابراعوان نے کہا وزیراعظم کہہ چکے ہم الیکشن کیلئے تیار ہیں، سپریم کورٹ نے جواب دیا ہمارے سامنے سیاسی باتیں نہ کریں۔

سپریم کورٹ نے سپیکر رولنگ کیس کی سماعت کل دوپہر 12 بجے تک ملتوی کردی۔