Saturday, August 13, 2022

عمران خان کا لاہورہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ جانیکا اعلان

عمران خان کا لاہورہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ جانیکا اعلان
June 30, 2022 ویب ڈیسک

اسلام آباد (92 نیوز) چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے لاہورہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان کردیا۔

اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پورے پاکستان کو مبارک باد دیتے ہیں، حمزہ شہباز کے خلاف فیصلہ آگیا، حمزہ شہباز اب وزیراعلی کیسے ہے؟ یہ سپریم کورٹ سے پوچھیں گے۔

سابق وزیراعظم بولے کہ پانچ مخصوص نشستیں بحال کرنے میں تین ہفتے لگا دیئے گئے، سیٹ اپ برقرار رکھنے کیلئے کوشاں لوگ خود کو ڈس کریڈٹ کر رہے ہیں، تمام مسائل کا حل فوری اور شفاف انتخابات ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ طاقتوروں کو این آر او دیا جائے گا تو اس ملک کا کوئی مستقبل نہیں۔ ملکی حالات میں سب سے بڑا بحث طلب موضوع رجیم چینج ہے، قائداعظم غلام ملک میں آزاد شخص تھے، کہا کہ پاکستان اس لیے نہیں بنا تھا کہ ایک غلامی سے نکل کر دوسری غلامی میں آجائیں۔ کسی بھی جمہوریت میں میڈیا پر ایسا دباؤ نہیں ڈالا گیا جو اس دور میں ہے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ تمام ترقی پذیر ممالک کا مسئلہ ہی یہ ہے کہ وہاں طاقتور کو نہیں پکڑا جاتا، کمزور کو جیل میں ڈالا جاتا ہے۔ کہا کہ ہر سال غریب ممالک سے 1700 ارب ڈالر منی لانڈرنگ کے ذریعے غریب ممالک سے امیر ممالک میں جاتا ہے۔ غریب ممالک کا 7 ہزار ارب ڈالر باہر آف شور اکاؤنٹس میں پڑا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ریاست مدینہ اُصولوں پر بنی تھی جس میں سب سے اہم اُصول انصاف تھا۔ ملک کے بڑے بڑے ڈاکوؤں کو 1100 سو ارب کی چھوٹ قابل مذمت ہے۔ برطانیہ میں کورونا کا قانون توڑنے پر وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آرہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سائفر پڑھ کر سوچا 22 کروڑ عوام کی کیسے تذلیل کی جاسکتی ہے؟ سائفر تین بار پڑھا کہ واقعی ہی یہ سچ ہے۔ کہا گیا کہ عمران خان کو نہ ہٹایا گیا تو پاکستان کو نقصان اُٹھانا پڑے گا۔ سوچتا رہ گیا کہ کوئی کسی دوسرے ملک کو اس طرح کا مراسلہ کیسے لکھ سکتا ہے۔ یہ ہمارے ملک کی توہین ہے، ایک عام امریکی افسر کہہ رہا ہے کہ پاکستان کا وزیراعظم ہٹا دو، وزیراعظم تو میں تھا وہ کس کو کہہ رہے تھے کہ وزیراعظم کو ہٹا دو۔ ہمارے پاس سارا ریکارڈ ہے کون کون لوگ امریکی سفارتخانے جارہے تھے۔ کہا کہ اس معاملے کی صحیح معنوں میں جوڈیشل انکوائری ہوگئی تو پاکستان کا فائدہ ہوگا۔

عمران خان نے کہا کہ ہم نے اپنی حکومت کے پہلے دو سال بہت مشکل میں گزارے، تیسرے اور چوتھے سال معاشی حالات بہتر ہونا شروع ہوگئے تھے، پاکستان مستحکم معیشت کی جانب جارہا تھا سارے شعبے پرفارم کررہے تھے، کنسٹرکشن سیکٹر کی بھی ریکارڈ گروتھ ہوئی، کسانوں کو وقت پر اور زیادہ پیسہ ملا جس سے زراعت اُوپر گئی۔ بولے کہ جب 6 فیصد گروتھ ہورہی تھی تو انہیں خیال آگیا کہ حالات بُرے ہوگئے ہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ نیوٹرلز کا بتایا کہ ملک عدم استحکام کا شکار ہوگیا تو معیشت کو سنبھال نہیں سکیں گے۔ نیوٹرلز رہنا اچھی چیز ہے اس کے باوجود بتا دیا تھا کہ اس کے اثرات آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے ایک سال پہلے خبریں آرہی تھیں کہ کیا پلان بن رہا ہے، میرا ذہن تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھا کہ شہباز شریف کو وزیراعظم بنا دیں گے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ان کی کرپشن پر باہر کے ممالک میں آرٹیکلز چھپتے رہے، ان کے اوپر کرپشن کے اتنے کیسز ہیں کہ سمجھ نہیں آتی کس پر بات کریں، ان کو این آر او دیکر مشرف نے سب سے زیادہ اس ملک پر ظلم کیا۔