Tuesday, October 4, 2022

سیلاب کئی علاقوں میں سمندر کی شکل اختیار کرچکا، احسن اقبال

سیلاب کئی علاقوں میں سمندر کی شکل اختیار کرچکا، احسن اقبال
September 20, 2022 ویب ڈیسک

اسلام آباد (92 نیوز) - وفاقی حکومت کی ایک بار پھر عوام اور عالمی اداروں سے سیلاب متاثرین کی امداد کی اپیل کردی۔ وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا ہے سیلاب کئی علاقوں میں سمندر کی شکل اختیار کرچکا۔ 

منگل کو اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیلاب میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 1500 سے بڑھ گئی ہے۔ بلوچستان اور سندھ میں اب بھی پانی موجود ہے۔ کئی طیارے مختلف ممالک سے امدادی سامان لا رہے ہیں۔ سیلاب متاثرین کو مزید مدد کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت متاثرہ علاقوں میں خواتین کی صحت کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے موبائل کلینک اور میٹرنٹی ہسپتال قائم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ میں نے مذہبی علماء سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے جمعہ کے خطبوں میں لوگوں کو سیلاب زدگان کی مدد کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کریں۔

اس کے علاوہ وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے تباہ کن سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اضلاع کی مدد کے لیے صوبائی حکومتوں کے تعاون سے 'ڈسٹرکٹ کو اپنائیں' پروگرام شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس پروگرام کے تحت پنجاب کے بڑے اضلاع کے انتظامی، انسانی اور صحت کے شعبے کے وسائل جن کو سیلاب سے کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے وہ آفت سے متاثرہ افراد کے لیے چھوڑ دیا جائے گا۔ "یہ سیلاب سے متاثرہ اضلاع کے لوگوں کے ساتھ مکمل ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرنے کا وقت ہے اور یہ اس ملک کی بہت بڑی خدمت ہوگی۔

"یونیورسٹی کے طلباء کے تعاون سے 20 لاکھ ماں اور بچے کے غذائیت کے پیک بھی بنائے جائیں گے۔ ہر یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہر طالب علم کو انفرادی طور پر یا کمیونٹی کے تعاون سے یہ نیوٹریشن پیک تیار کرنے کا کام دیں گے تاکہ سیلاب زدہ علاقوں میں ان خواتین اور بچوں کی مدد کی جا سکے جن کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔

اپنے ریمارکس میں چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز نے کہا کہ پاکستان کو اب تک بیس ممالک سے ایک سو چودہ امدادی پروازیں موصول ہو چکی ہیں۔ "ترکی پاکستان کو امدادی ٹرینیں بھی بھیج رہا ہے۔ مختلف ممالک کی جانب سے بھیجے گئے امدادی سامان میں خیمے، ترپال، کمبل، فوڈ پیک، ادویات اور کشتیاں شامل ہیں۔

سندھ سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے۔ اس لیے 55 سے 60 فیصد امدادی سامان صوبے اور 15 سے 20 فیصد بلوچستان کو بھیجا گیا ہے۔ پنجاب، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کو بھی امدادی سامان فراہم کیا گیا ہے۔ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے امدادی سامان کا مکمل ریکارڈ رکھا جا رہا ہے۔

چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل اخترنواز نے کہا مختلف ممالک سے کئی طیارے امدادی سامان لے کر آرہے ہیں، سیلاب متاثرین کو ابھی مزید امداد کی ضرورت ہے۔