Monday, April 15, 2024

سیاسی عدم استحکام کے باعث پاکستان سنگین معاشی بحران سے دوچار ہے، معاشی ماہرین

سیاسی عدم استحکام کے باعث پاکستان سنگین معاشی بحران سے دوچار ہے، معاشی ماہرین
January 29, 2023 ویب ڈیسک

اسلام آباد (92 نیوز) - سیاسی عدم استحکام کے باعث پاکستان سنگین معاشی بحران سے دوچارہے۔ معاشی ماہرین نے الجزیرہ کے پروگرام میں کہا کہ اگر پاکستان نے آئی ایم ایف کوبیل آوٹ پیکچ کے لیے مطمئن کردیا تو سری لنکا جیسی صورت حال کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا پھرپاکستان کو ڈیفالٹ ہونے کا کوئی خطرہ نہیں۔

پاکستان کا معاشی بحران مزید سنگین ہونے کے بعد کیا ہوگا؟الجزیرہ ٹی وی نے پاکستان کی معاشی اور سیاسی عدم استحکام پر ایک رپورٹ جاری کر دی۔ رپورٹ کے مطابق روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں 10 فیصد کی کم ترین سطح تک گر گئی ہے، پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر صرف 3.5 ارب ڈالر رہ گئے ہیں۔ آئی ایم ایف نے پاکستانی حکومت کے ساتھ معاشی اصلاحات پر تعطل کے باعث فنڈنگ روک دی گئی ہے۔ آئی ایم ایف کی ٹیم نے مزید بیل آؤٹ پیکچ کے لیے اگلے ہفتے پاکستان کا دورہ کرے گی۔

سابق ایڈوائزر ورلڈ بینک عابد حسن نےالجزیرہ ٹی وی کی میزبان فولی باہ تھیبالٹک سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا معاشی ڈھانچہ گزشتہ 30 سال سے اصلاحات کا متقاضی ہے۔ آئی ایم ایف سے ڈیل ہو بھی جاتی ہے تو ایک دوسال بعد پھر اسی طرح کے بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ کےلئے ڈالر پر کیپ ختم کرناکافی نہیں ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پاکستان سے بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافے کا مطالبہ کرے گا۔ حکومت کوغریب عوام کو ریلیف اور امیر طبقے پر مہنگائی کا بوجھ ڈالنا ہوگا۔

ڈیزاسٹر مینجمنٹ پروفیشنل نیلوفرآفریدی قاضی کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی تجویز کردہ اصلاحات سے معیشت کی بحالی یا غریب عوام کو فائدہ نہیں ہوگا۔ آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکیج عارضی حل ہوگا۔ بےتحاشا قرضے لینا اور زرعی اشیاء کی درآمد بھی معاشی بحران کی وجہ ہے۔ قدرتی آفات کی وجہ سے پاکستان میں عوام شدید متاثر ہوئے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کار اختر علی شاہ کا کہنا تھا کہ سیاسی بحران نے بھی ملک کو معاشی عدم استحکام سے دوچار کیا، سیاسی بحران کی وجہ سے سپلائی چین اور غیرملکی سرمایہ کاری شدید متاثر ہوئی۔