Monday, September 26, 2022

سپریم کورٹ، شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کیخلاف اپیلوں پر وفاق کو نوٹس جاری

سپریم کورٹ، شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کیخلاف اپیلوں پر وفاق کو نوٹس جاری
September 16, 2022 ویب ڈیسک

اسلام آباد (92 نیوز) - سپریم کورٹ نے شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کیخلاف اپیلوں پر وفاق کو نوٹس جاری کردیا۔

جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی خصوصی بنچ نے شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کےخلاف اپیلوں پر سماعت کی۔ جسٹس مظاہر علی اکبرنقوی نے کیس پر کئی اعتراضات اُٹھا دیئے اور استفسار کیا کہ کیا پولیس نے شہباز گل سے زبان ریکور کرنا تھی جس سے وہ بولا تھا؟ شہباز گل سے جو ریکوری کی گئی اس کا کیس سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ شہباز گل کو متعلقہ فورم پر درخواست دائر کرنے سے کس نے روکا ہے؟ تشدد کیخلاف شہباز گل کو متعلقہ فورم سے رجوع کرنا ہوگا۔

جسٹس جمال مندوخیل نے سوال اُٹھایا کہا کہ کیا پی ٹی آئی حکومت میں کسی پر پولیس نے تشدد نہیں کیا؟ شہبازگل کے وکیل سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ پولیس تشدد کے واقعات کم ہی سامنے آتے ہیں۔ ملکی تاریخ کا سب سے متنازع ریمانڈ شہباز گل کا دیا گیا۔ ٹرائل کورٹ نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔ شہباز گل نے ایک تقریر کی جس کو بنیاد بنا کر 13 دفعات لگائی گئیں۔

جسٹس مظاہرعلی اکبرنقوی کا کہنا تھا کہ شہباز گل نے تقریر نہیں کی بلکہ ٹی وی پر انٹرویو دیا تھا۔ آپ نے کیس کی تیاری ہی نہیں کی۔ آپ کو جسمانی ریمانڈ دینے کے طریقہ کار اور مقصد کا ہی نہیں پتہ۔ جج نے آرڈر میں لکھا کہ شہباز گل کے جسم پر تشدد کے نشانات ہیں۔ کیا جج صاحب تشدد کے کیس میں بطور گواہ بھی پیش ہونگے؟

جسٹس مظاہر نقوی وکیل شہبازگل پر برس پڑے اور کہا کہ مجسٹریٹ قیدی کے حقوق کا ضامن ہوتا ہے آپ کو اتنا بھی علم نہیں۔ وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ پر ضابطہ فوجداری کا اطلاق ہوتا ہے۔ اس پر جسٹس مظاہرعلی نقوی نے طنزا کہا کہ ماشاءاللہ وکیل صاحب سپریم کورٹ پر ضابطہ فوجداری کا اطلاق نہیں ہوتا۔

سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔