Thursday, May 19, 2022

سپریم کورٹ، عدم اعتماد سے متعلق ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ غیر قانونی قرار، قومی اسمبلی بحال

سپریم کورٹ، عدم اعتماد سے متعلق ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ غیر قانونی قرار، قومی اسمبلی بحال
April 7, 2022 ویب ڈیسک

اسلام آباد (92 نیوز) - سپریم کورٹ نے عدم اعتماد سے متعلق ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ غیر قانونی قرار دیدی۔ قومی اسمبلی بحال کردی۔

عدالت نے صدر کا اسمبلی تحلیل کرنا کالعدم قرار دیکر اسمبلی بحال کردی، وفاقی کابینہ کو بحال کردیا گیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے عدالت نے از خود نوٹس کیس نمٹا دیا، فیصلہ متفقہ ہے۔

فیصلہ کے مطابق اسپیکر اجلاس فوری بلا کر عدم اعتماد پر ووٹنگ کرائیں، قومی اسمبلی کا اجلاس 9 اپریل 10:30 بلایا جائے۔ وزیراعظم اسمبلی تحلیل کرنے کے اہل نہیں تھے۔ اسپیکر عدم اعتماد پر ووٹنگ تک اجلاس ملتوی نہیں کر سکتا۔ حکومت کسی صورت ارکان کو ووٹ ڈالنے سے نہیں روک سکتی۔

آرٹیکل 63 اے پر عدالتی فیصلے کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ عدم اعتماد کامیاب ہو تو فوری نئے وزیراعظم کا الیکشن کرایا جائے۔ سپریم کورٹ نے عدالتی احکامات پر فوری عمل در آمد کرنے کا حکم صادر کردیا۔

اس سے قبل چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے اس معاملے پر لیے گئے از خود نوٹس اور متعدد فریقین کی درخواستوں پر آج مسلسل پانچویں روز سماعت کی۔

ریمارکس دئیے کہ سیاست میں سب کا احترام ہے لیکن خدا کی قسم قوم قیادت کے لیے ترس رہی ہے۔ اسمبلی بحال ہوگی تو بھی ملک میں استحکام نہیں ہوگا لیکن ملک کو استحکام کی ضرورت ہے جبکہ اپوزیشن بھی استحکام کا کہتی ہے، قومی مفاد کو بھی ہم نے دیکھنا ہے۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید نے بھی کہا کہ میں رولنگ کا دفاع نہیں کر رہا لیکن میرا مدعا نئے انتخابات ہیں۔ جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ عدالت نے حالات و نتائج کو دیکھ کر فیصلہ نہیں کرنا ہے، عدالت نے آئین کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرنا ہے، کل کو کوئی اسپیکر آئے گا وہ اپنی مرضی کرے گا، عدالت نے نہیں دیکھنا کون آئے گا کون نہیں اور ہم نتائج پر نہیں جائیں گے۔

عدالت میں بلاول بھٹو بھی پیش ہوئے اور کہا کہ اپنے لیے حکومت بنانا ہماری ترجیح نہیں، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ غیر آئینی ہے اور اسی غیر قانونی رولنگ نے وزیراعظم کی جمہوریت پر سوال اٹھایا، ہم حکومت بناکر اتنخابی اصلاحات کرنا چاہتے ہیں۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا انتخابی اصلاحات کی تجویز ٹیبل ہوئی؟ کیا انتخابی اصلاحات کے لیے کوئی بل جمع کروایا ہے؟ ہمیں پتا ہے آپ کے خاندان نے جمہوریت کے لیے قربانیاں دی ہیں، آپ کی سینیٹ میں جو انتخابی اصلاحات کی تجاویز ہیں وہ منگوا لیں۔

عدالت عظمیٰ میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا کہ رولنگ ختم ہونے پر تحریک عدم اعتماد بحال ہو جائے گی اور اسپیکر کی رولنگ کالعدم ہو تو اسمبلی کی تحلیل ازخود ختم ہوجائے گی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہمیں کمزور نہیں بلکہ مضبوط حکومت چاہیے۔

شہباز شریف نے کہا کہ آئین کو جیسے توڑا گیا اور معطل کیا گیا وہاں نتائج بھی ہوں گے جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ اپوزیشن پہلے دن سے الیکشن کرانا چاہتی تھی، شہباز شریف نے کہا کہ مسئلہ آئین توڑنے کا ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آئین کی مرمت ہم کر دیں گے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ عدم اعتماد اگر کامیاب ہوتی ہے تو اسمبلی کا کتنا دورانیہ رہے گا؟ شہباز شریف نے بتایا کہ ڈیڑھ سال پارلیمنٹ کا ابھی باقی ہے، اپنی اپوزیشن سے ملکر انتخابی اصلاحات کریں گے تاکہ شفاف الیکشن ہو سکے۔

اٹارنی جنرل کے دلائل سے قبل اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے وکیل نعیم بخاری نے پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کے میٹنگ منٹس سپریم کورٹ میں پیش کیے تھے جس میں انشکاف ہوا کہ وزیر خارجہ اور مشیر قومی سلامتی اجلاس میں شریک نہیں تھے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ کیا وزیر خارجہ پارلیمانی کمیٹی اجلاس میں موجود تھے؟ وزیر خارجہ کے دستخط میٹنگ منٹس میں نظر نہیں آ رہے، کیا وزیر خارجہ کو اجلاس میں نہیں ہونا چاہیے تھا؟ نعیم بخاری نے کہا کہ وزیر خارجہ کو پارلیمانی کمیٹی اجلاس میں ہونا چاہیے تھا۔چیف جسٹس نے کہا کہ معید یوسف کا نام بھی میٹنگ منٹس میں نظر نہیں آ رہا۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بظاہر آرٹیکل 95 کی خلاف ورزی ہوئی ہے، اگر کسی دوسرے کے پاس اکثریت ہے تو حکومت الیکشن اناؤنس کر دے۔ الیکشن کرانے پر قوم کے اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں اور ہر بار الیکشن سے قوم کا اربوں کا نقصان ہوگا، یہ قومی مفاد ہے۔

وزیراعظم عمران خان کے وکیل امتیاز صدیقی نے دلائل میں کہا کہ عدالت نے ماضی میں بھی پارلیمان کی کاروائی میں مداخلت نہیں اور عدالت کے سامنے معاملہ ہاوس کی کارروائی کا ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے قومی مفاد کو دیکھنا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ اگر مخلوط حکومت بنتی ہے تو کیا ممکن ہے کہ سب سے بڑی جماعت کو دیوار سے لگا دیا جائے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قانون یہی ہے کہ پارلیمانی کارروائی کے استحقاق کا فیصلہ عدالت کرے گی اور عدالت جائزہ لے گی کہ کس حد تک کارروائی کو استحقاق حاصل ہے۔

چیف جسٹس نے اسفتسار کیا کہ کیا ڈپٹی اسپیکر کے پاس کوئی مٹیریل دستیاب تھا جس کی بنیاد پر رولنگ دی؟ کیا ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ نیک نیتی پر مبنی تھی؟ ڈپٹی اسپیکر کے سامنے قومی سلامتی کمیٹی کے منٹس کب رکھے گئے؟ جواب میں وکیل امتیاز صدیقی نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کے معاملے پر مجھے نہیں معلوم، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جو آپ کو نہیں معلوم اس پر بات نا کریں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ اسمبلی تحلیل نہ ہوتی تو ایوان ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ ختم کر سکتا تھا لیکن وزیراعظم نے صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسمبلی تحلیل کی۔