Saturday, October 1, 2022

سپریم کورٹ نے اوورسیز پاکستانیوں کی ووٹنگ کی درخواستوں پر اعتراضات ختم کر دیئے

سپریم کورٹ نے اوورسیز پاکستانیوں کی ووٹنگ کی درخواستوں پر اعتراضات ختم کر دیئے
August 24, 2022 ویب ڈیسک

اسلام آباد (92 نیوز) - سپریم کورٹ نے اوورسیز پاکستانیوں کی ووٹنگ سے متعلق درخواستوں پر اعتراضات ختم کر دیئے۔

جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کی درخواست پر سماعت کی۔ وکیل شیخ رشید نے دلائل دیئے تو جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ انتخابات میں جعلی ووٹ اور دھاندلی تو یہاں بھی ہوتی ہے جس کیخلاف قانون موجود ہے۔ حادثہ ہونے پر موٹروے بند نہیں کی جا سکتی؟ کیا دھاندلی کے خدشات پر انتخابات کرانا ہی بند کر دیئے جائیںگے؟

جسٹس اعجازالاحسن نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن دھاندلی روکنے کیلئے اپنے اختیارات استعمال کیوں نہیں کرتا؟ الیکشن کمیشن کے خدشات کو دور کیا جانا ضروری ہے تاہم اوورسیز کے ووٹ کا حق ختم کرنا درست نہیں۔ بینچ نے کہا کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم کا جائزہ بنیادی حقوق سے متصادم ہونے پر ہی لینگے۔ بظاہر اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق مفاد عامہ اور بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے۔ عدالت متعدد بار اوورسیز پاکستانیوں کے حقوق سے متعلق فیصلے دے چکی ہے۔

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ کیا موجودہ اسمبلی بنیادی حقوق کے حوالے سے ترامیم کرنے کی مجاز ہے؟ اسمبلی میں اس وقت ارکان کی تعداد بہت کم ہے۔ پوری دنیا میں ماڈرن ڈیوائسز استعمال ہوتی ہیں، ہر کام میں جدید آلات استعمال ہوتے ہیں تو ووٹنگ میں کیوں نہیں؟ عدالت نے سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دی۔

سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں شیخ رشید نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ملنے سے آئیندہ الیکشن کا نتیجہ اہم ہو گا۔ تمام مسائل کا حل فوری انتخابات ہیں۔ ابھی اپنے خلاف درج مقدموں کی ضمانت کے لیے جاؤں گا۔