Friday, May 20, 2022

سپریم کورٹ کا فیصلہ تسلیم، امپورٹڈ حکومت تسلیم نہیں کرونگا، وزیراعظم

سپریم کورٹ کا فیصلہ تسلیم، امپورٹڈ حکومت تسلیم نہیں کرونگا، وزیراعظم
April 8, 2022 ویب ڈیسک

اسلام آباد (92 نیوز) - وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ تسلیم ہے، افسوس ہوا کہ عدم اعتماد کی شکل میں باہر سے مداخلت کی گئی۔

جمعہ کے روز قوم سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ تقریباً 26سال پہلے تحریک انصاف بنائی، تحریک انصاف کے اصول 26 سال میں کبھی تبدیل نہیں ہوئے۔ خودداری اور انصاف پر آج بات کرنا چاہتا ہوں، کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے مجھے مایوسی ہوئی، میں پاکستان کی عدلیہ کی عزت کرتا ہوں، میں نے ایک ہی دفعہ جیل کاٹی اور وہ آزاد عدلیہ کے لیے کاٹی۔

وزیراعظم نے کہا کہ عدلیہ کا جو بھی فیصلہ ہے اسے تسلیم کرتے ہیں، افسوس اس لیے ہوا کہ اسمبلی تحلیل کرنے کی ایک وجہ تھی۔ اسمبلی تحلیل کرنے کی وجہ آرٹیکل 5 تھی، پاکستان میں عدم اعتماد کی شکل میں باہر سے مداخلت تھی۔ سپریم کورٹ کو اس معاملے کو اچھی طرح دیکھنا چاہئے تھا اس مراسلے کو بھی دیکھنا چاہئے تھا۔

اُن کا کہنا تھا کہ اتنی بڑی سازش پر سپریم کورٹ میں کوئی بات ہی نہیں ہوئی، ارکان اسمبلی کو بھیڑ بکریوں کی طرح خریدا گیا، ضمیر کی خرید وفروخت ہوئی۔ دنیا کی کس جمہوریت میں اس بات کی اجازت دی جاتی ہے؟ عدلیہ سے ہمیں توقع تھی ارکان اسمبلی کی خریدوفروخت پر سوموٹو لے گی۔

عمران خان نے کہا کہ اتنے کھلے عام ارکان اسمبلی تو بنانا ری پبلک میں بھی نہیں بکتے۔ ہماری نوجوان نسل اس خریدوفروخت کو دیکھ رہی ہے، ان کے لیے ہم کیا مثال قائم کررہے ہیں۔ آج سے تیس بتیس سال پہلے بھی چھانگا مانگا میں یہی کچھ ہوا تھا، خصوصی نشست والے ارکان بھی بک رہے ہیں۔ میں ہمیشہ سے پاکستان کو عظیم ملک بنتا ہوا دیکھنا چاہتا تھا، اس طرح کے تماشے دیکھ کر میری خواہش کو بڑا دھچکا لگتا تھا۔

اُنہوں نے کہا کہ ہم نے عدلیہ کا فیصلہ تسلیم کیا لیکن سرعام ہونے والی اس طرح کی چیزوں پر مایوس ہوں۔ اس طرح کی چیز میں نے کبھی بھی کسی مغربی ملک میں نہیں دیکھی، مغربی ممالک میں کبھی کوئی رکن اسمبلی اپنا ضمیر بیچنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ مغربی معاشرے اچھائی کے ساتھ اور بدی کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں، قوم سے کہتا ہوں جب آپ باہر سے سازش ہوتی دیکھیں تو اس کے خلاف کھڑے ہوں۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ مراسلہ ایک سائفر ہے، ایمبیسی کوڈڈ میسجنگ کرتی ہیں جو خفیہ ہوتی ہیں، سائفر میسج ٹاپ سیکرٹ ہوتا ہے جو میڈیا یا عوام میں نہیں دکھایا جاسکتا۔ اگر اس میسج کو پبلک کیا تو ہمارے سارے خفیہ پیغامات سامنے آجائیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ ہمارے امریکا میں سفیر کی امریکی آفیشل سے ملاقات ہوئی۔ امریکی آفیشل نے کہا عمران خان کو روس نہیں جانا چاہئے تھا، اس وقت تک عدم اعتماد کی تحریک نہیں آئی تھی۔ امریکی آفیشل نے کہا اگر عمران خان عدم اعتماد کی تحریک سے بچ گیا تو پاکستان کو مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑے گا اور پاکستان کو نقصان ہوگا اور اگر عدم اعتماد کامیاب ہوگئی تو پاکستان کو معاف کردیا جائے گا۔ اس نے کہا جو بھی آئے گا ہم پاکستان کو معاف کردیں گے، انہیں پتہ تھا کس نے آنا ہے اور کس نے اچکن سلوا رکھی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ 22 کروڑ عوام کے سربراہ کو اس طرح حکم دینا کس قدر شرمندگی کا باعث ہے، میرے پاکستانیو! اگر ہم نے اسی طرح زندگی گزارنی ہے تو آزاد ہوئے ہی کیوں تھے؟ ہمارے ارکان اسمبلی کو ایک دم پتہ چلا کہ تحریک انصاف تو بہت ہی زیادہ بری ہے، ایک دم ڈرامہ شروع ہوگیا اور میڈیا پر بھی ڈرامہ شروع ہوگیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ پھر ہمیں آہستہ آہستہ چیزیں سمجھ آنا شروع ہوگئیں، پتہ چلا امریکی ڈپلومیٹ ہمارے لوگوں سے ملنا شروع ہوگئے۔ میرے ارکان نے بتایا کہ ڈپلومیٹ نے انہیں بتایا کہ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد آنے لگی ہے، آہستہ آہستہ پتہ چلا کہ یہ تو پورا پلان بنا ہوا تھا، پورا اسکرپٹ بنا ہوا تھا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ شہبازشریف نے کہا مقروض ملک کو غلامی کرنا پڑتی ہے، دوسرے نے کہا ہم تو لائف اسپورٹ مشین پر ہیں جسے امریکا جب چاہے بند کردے، مغرب اگر کسی کو اس ملک میں جانتا ہے تو وہ عمران خان ہے، میرا تو سارا پروفائل ان کے پاس پڑا ہے۔  میرا سب سے بڑا جرم ہے کہ ڈرون حملوں کی مخالفت کی، عراق اور افغان جنگ کی مخالفت کی۔ جب پاکستان میں 400 ڈرون حملے ہوئے تو صرف عمران خان نے احتجاج کیا اور دھرنے دیئے، مغربی ممالک جانتے ہیں عمران خان کو کنٹرول نہیں کیا جاسکتا اس لیے اسے ہٹانا ضروری ہے، یہ سارا ڈرامہ صرف ایک آدمی کو ہٹانے کے لیے ہورہا ہے، مغربی ممالک جانتے ہیں یہ پیسے کے لیے اپنے ملک کی ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار رہتے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ ڈرون حملوں کے خلاف کوئی بولنے والا نہ تھا، پیسوں کے غلاموں کو ڈر تھا کہیں امریکا ناراض نہ ہوجائے۔  یہ کنٹرولڈ ہیں اسی لیے وہ چاہ رہے ہیں کہ یہی لوگ دوبارہ آجائیں۔ قوم کو فیصلہ کرنا ہوگا ہمیں کس قسم کا پاکستان چاہئے۔

اُن کا کہنا تھا کہ آرایس ایس کی آئیڈیالوجی کی وجہ سے پاکستان بھارت کے تعلقات خراب ہوئے۔ بھارتی ایک خوددارقوم ہے، کسی سپرپاور کی جرات نہیں کہ بھارت کی خارجہ پالیسی میں مداخلت کرے۔ عمران خان بھی یہی کہتا ہے میں کسی ملک کا اینٹی نہیں، کسی ملک سے لڑائی نہیں۔ میں کہتا ہوں سب سے پہلے فائدہ ہمارے 22 کروڑ عوام کا ہونا چاہئے اس کے بعد کچھ اور ہونا چاہئے۔

وزیراعظم نے کہا کہ میں کبھی کسی کے لیے اپنے لوگوں کی قربانی نہیں دے سکتا، ہمارے ماضی کے صاحب اقتدار حکمران ڈالرز کے لیے پرائی جنگوں میں پھانسا دیتے تھے۔ پیسے لے کر جب کسی کا ساتھ دیتے ہیں تو وہ آپ کی عزت نہیں کرتے، روس کے افغانستان سے جانے کے دو سال کے بعد ہی پاکستان پر پابندیاں لگ گئیں۔

عمران خان بولے کہ فارن پالیسی کا سب سے پہلے فائدہ ہمارے اپنے لوگوں کا ہونا چاہئے، ہم امن میں سب کا ساتھ دینے کو تیار ہیں جنگ میں کسی کا ساتھ نہیں دیں گے۔ مغرب کو وہ لوگ پسند ہیں جو ان کی سب باتیں مانیں، جو گھٹنوں پر بیٹھیں وہ مغرب کو پسند ہوتے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ نوجوانوں سے کہتا ہوں آپ کا ملک آپ کے ہاتھوں میں ہے، ملکی خودمختاری کی حفاظت قوم کرتی ہے، ملکی خودمختاری پر جو حملہ ہوا ہے اس پر آپ کو اسٹینڈ لینا ہوگا۔ عمران خان اینٹی امریکا نہیں ہے لیکن ہم نے بہت برے حالات دیکھے ہیں۔ ہم ٹشو پیپر کی طرح استعمال ہونے والی قوم نہیں ہیں۔ ون سائیڈڈ ریلیشن شپ کسی سے نہیں چاہئے، تعلقات میں دونوں کا فائدہ ہونا چاہئے۔

وزیراعظم بولے کہ نوجوان نسل سے کہتا ہوں میں تو اس امپورٹیڈ حکومت کو کبھی بھی تسلیم نہیں کروں گا، میں تو باہرنکلوں گا۔ عوام ہی مجھے لے کر آئی اور عوام کے ساتھ ہی میں نے آنا ہے، جب یہ عدم اعتماد لائے تو میں اپنی اسمبلی کو تحلیل کرکے عوام میں چلا گیا۔ ہم چاہتے تھے نئے انتخابات کرالیں، جسے عوام مینڈیٹ دے وہ حکومت بنالے۔ یہ سب ایک دوسرے کو چور چور کہتے تھے اب میرے خلاف سب اکٹھے ہوگئے۔ یہ آتے ہی خود کو این آر او ٹو دے دیں گے۔ یہ اس لیے ای وی ایم ختم کریں گے کیونکہ انہوں نے دھاندلی کرنی ہے۔ یہ حکومت میں آکر اوورسیزپاکستانیوں کو ووٹ کا حق بھی ختم کریں گے۔

اُنہوں نے کہا کہ یہ تمام عہدوں پر اپنے لوگ لگا کر میچ فکس کرکے الیکشن کرانا چاہتے ہیں، یہ آئیں الیکشن میں اور دیکھ لیں عوام کس کو ووٹ دیتی ہے، میں اب جدوجہد کے لیے تیار ہوں اور عوام میں نکلوں گا۔ اتوار کو عشاء کے بعد ساری قوم نے نکلنا ہے اور زندہ قوم کی طرح پُرامن احتجاج کرنا ہے۔ کبھی بھی احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ اور تصادم نہیں کرنا۔ امپورٹیڈ حکومت کے لیے بیرونی سازش کے خلاف جدوجہد قوم پر فرض ہے۔ تاریخ کبھی کسی کو معاف نہیں کرتی، کون کیا کردار ادا کررہا ہے تاریخ میں سامنے آ ہی جاتا ہے۔ عدالتی فیصلے بھی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہیں، آپ نے غلامی قبول نہیں کرنی اور ایک آزاد قوم کی طرح کھڑے ہونا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ میں قوم کے ساتھ ہوں گا اور بھرپور جدوجہد کروں گا، میں کسی بھی طرح یہ برداشت نہیں کرسکتا کہ امپورٹیڈ حکومت ملک پر مسلط کی جائے۔