Monday, June 27, 2022

سپریم کورٹ بار نے آرٹیکل تریسٹھ اے کے صدارتی ریفرنس پر اپنا تحریری جواب جمع کرا دیا

سپریم کورٹ بار نے آرٹیکل تریسٹھ اے کے صدارتی ریفرنس پر اپنا تحریری جواب جمع کرا دیا
March 24, 2022 ویب ڈیسک

اسلام آباد (92 نیوز) - سپریم کورٹ بار نے آرٹیکل تریسٹھ اے کے صدارتی ریفرنس پر اپنا تحریری جواب جمع کرا دیا۔ تحریک عدم اعتماد میں ووٹ ڈالنے کیلئے اراکین اسمبلی کو خودمختار قرار دے دیا۔

سپریم کورٹ بار نے اپنے جواب میں  کہا کہ ہر رکن قومی اسمبلی اپنے ووٹ کا حق استعمال کرنے میں خودمختار ہے۔۔آرٹیکل 95 کے تحت کسی رکن قومی اسمبلی  کو ووٹ ڈالنے سے روکا نہیں جا سکتا۔ آرٹیکل 95 کے تحت ڈالا گیا ہر ووٹ گنتی میں شمار ہوتا ہے۔ بار نے اپنے جواب میں لکھا کہ آرٹیکل 63 اے میں پارٹی احکامات کیخلاف ووٹ ڈالنے پر کوئی نااہلی نہیں۔

جمیعت علمائے اسلام نے صدر کی جانب سے بھیجا گیا ریفرنس آرٹیکل 186 سے تجاوز قرار دیدیا۔ جمیعت علمائے اسلام کی جانب سے جمع کرائے جواب میں کہا گیا ہے کہ صدر مملکت جو تشریح چاہتے اس سے آٹیکل 95 غیر موثر ہو جائے گا جس کے بعد وزیر اعظم کو ہٹانے کا ملک گیر احتجاج کا طریقہ ہی باقی رہے گا۔ جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ اس موقع پر سپریم کورٹ کا کوئی بھی فیصلہ الیکشن کمیشن  کے احتیارات کو متاثر کریگا۔ اس لئے عدالت ریفرنس واپس کر دے۔