Wednesday, October 5, 2022

سندھ ہائیکورٹ کا صوبے میں تمام شراب خانے بند کرنے کا حکم

سندھ ہائیکورٹ کا صوبے میں تمام شراب خانے بند کرنے کا حکم
کراچی (92نیوز) سندھ ہائیکورٹ نے پورے سال شراب کی فروخت کو غیرقانونی قرار دے دیا۔ عدالت نے سندھ کے تمام شراب خانے فوری بند کرنے کا حکم نامہ جاری کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں شراب خانوں کے قیام کے معاملہ کی سماعت ہوئی۔ ڈی جی ایکسائز نے عدالت کو بتایا کہ کراچی میں 120 شراب خانوں کو لائسنس جاری کئے گئے جبکہ صرف ضلع جنوبی میں 24لائسنس جاری کئے گئے ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ کراچی ضلع جنوبی میں الیکشن کمیشن کے مطابق بیس ہزار اقلیت ہیں لیکن شراب کی چوبیس دکانیں کھلی ہیں۔ ڈی جی ایکسائز نے عدالت کو بتایا کہ ایک غیرمسلم کے لیے 16 بوتل بیئر اور 8 بوتل کپی کا کوٹہ مختص کیا گیا ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہندووں اور مسیحیوں کا محض نام ہے‘ اصل کہانی اور ہے۔ بیچارے ہندو نہ اتنی پی سکتے ہیں نہ افورڈ کر سکتے ہیں۔ شراب خانوں کیلئے جاری تمام لائسنس ری کال کر کے لسٹ آج ہی جاری کریں۔ چیف جسٹس نے حکم دیا کہ سندھ میں تمام شراب خانے فوری بند کیے جائیں۔ آئی جی سندھ فی الفور ایسی تمام شراب کی دکانیں بند کرا دیں۔ حدود آرڈیننس سیکشن 17 کے تحت شراب کی فراہمی اقلیتوں کے مذہبی تہوار کے موقع پر دی جا سکتی ہے لہٰذا سال کے بارہ مہینے اور 365 دن شراب کی دکانوں کے لائسنس غیرقانونی ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ ہولی، دیوالی اور کرسمس سے صرف پانچ دن پہلے شراب اقلیتوں کو دی جاسکتی ہے۔ پنڈتوں اور بشپ کو بلا کر پوچھیں گے کون سی گیتا اور بائبل سارا سال شراب پینے کی اجازت دیتی ہے۔ ضلع جنوبی میں جتنی شراب کی دکانیں ہیں اور جتنی شراب وہاں فروخت کی جاتی ہے اس سے اقلیتوں کے نہانے کے بعد بھی بچ جائے گی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جو وکلاءشراب کی دکانوں کی حمایت میں آئے ہیں آئندہ سماعت پر حدیث پڑھ کر آئیں کہ شراب سے متعلق صحیح حدیث میں ایسے مسلمان پر لعنت بھیجی گئی ہے۔