Friday, August 12, 2022

روٹھی نیند،، ہوئے گمشدہ خواب مرے !

روٹھی نیند،، ہوئے گمشدہ خواب مرے !
June 28, 2022 ویب ڈیسک

ہوتا ہے کیا ،، ایسا بھی

سوچتا ہوں میں یونہی کبھی

وقت گزرا ، عمر کٹی

 حاصل رہا ، نہ وصول کوئی

 دن تو تھے ہی پریشاں جو بیاں ہوئے

 اضطرابِ شب بھی ہے بالکل وہی ،

اضطراب ہے ۔۔۔ کہ اب نیند نہ آئے راتوں میں

ذہن اُلجھا ہوا ہو کچھ باتوں میں

ہو  بے چینی سی ، بے قراری

کروٹ بدلتی ہر ساعتوں میں

 دل پر کوئی بوجھ ہو

گہری سی اک سوچ ہو

اور آنکھیں خالی ہوں

خوابوں سے !

 

پھر یاد آئیں بچپن کے وہ دن

جب کٹتی تھیں راتیں ، فکروں کے بنِ

چاند کو تکتے ،، تارے گنتے

سو جاتے تھے ہم باتیں کرتے

مدہوشی کی وہ نیند عجب تھی

نہ خاص کوئی ایسی طلب تھی

اب تو زندگی بے بس ہے ،

جھوٹی خواہشوں کے آ گے

نہ جانے کیا اس نیند کو ہوا ہے

کہ آئے نہ کمبخت

دوائیں بھی کھا کے

***

کاشف شمیم صدیقی