Thursday, May 19, 2022

روس کی مسلط کردہ جنگ کے بعد یوکرین کی بندرگاہوں پر تجارت ٹھپ ہو چکی ہے، یوکرینی صدر زیلنسکی

روس کی مسلط کردہ جنگ کے بعد یوکرین کی بندرگاہوں پر تجارت ٹھپ ہو چکی ہے، یوکرینی صدر زیلنسکی
May 10, 2022 ویب ڈیسک

کیف (92 نیوز) - یوکرینی صدر زیلنسکی کا کہنا ہے روس کی مسلط کردہ جنگ کے بعد یوکرین کی بندرگاہوں پر تجارت ٹھپ ہو چکی ہے۔

روس کے یوکرین کے صنعتی شہر اوڈیسا میں میزائل حملے سے شہر میں شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں ۔ دھماکوں سے عمارتیں تباہ اور ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ سٹی کونسل کا کہنا ہے کہ روس نے آبدوزوں اور لڑاکا طیاروں کا استعمال کیا۔

خارکیف میں یوکرین کا جوابی حملے کے بعد روس نے اپنی افواج کو سرحدوں پر روک لیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق ڈونیٹسک کے علاقے میں روسی فوج کی شدید سرگرمیاں جاری ہیں۔ دوسری جانب یوکرینی افواج کا ماریوپول میں ازووسٹل سٹیل پلانٹ کا دفاع برقرار ہے۔

 یوکرینی صدر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ یوکرین کی بند رگاہ پر تجارت ٹھپ ہو چکی ہے ۔ عالمی برادری روسی ناکہ بندی ختم کروائے۔ گندم کی ترسیل  بندش کا شکار ہے۔ بہت سے  ممالک خوراک کی قلت کا شکار ہو جائیں گے ۔

امریکی  کانگریس  میں  یوکرین کے لئے 39.8 ارب ڈالر کی اضافی امداد پر اتفاق کر لیا گیا ہے ۔  امریکی کانگریس  نئی فوجی امداد کے منصوبے کو جلد منظور کرے گی۔

 جاپان نے روس کے خلاف نئی پابندیاں بڑھا دیں۔ جاپان نے سائنسی اداروں پر پابندیاں اور اثاثے منجمد کرنے کا اعلان کر دیا ۔