Monday, October 3, 2022

رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ میں تیل کی قیمتیں 49 روپے 17 پیسے تک بڑھیں

رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ میں تیل کی قیمتیں 49 روپے 17 پیسے تک بڑھیں
February 26, 2022 ویب ڈیسک

اسلام آباد (92 نیوز) رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ میں تیل کی قیمتیں 49 روپے 17 پیسے تک بڑھیں۔

موجودہ مالی سال کے ابتدائی 7 ماہ میں تیل کی قیمتیں کبھی بڑھیں تو کبھی برقرار رہیں لیکن دو دفعہ کم بھی ہوئیں۔ یکم جولائی 2021 سے رواں ماہ فروری تک پٹرول 49 روپے 17 پیسے جبکہ ڈیزل 40 روپے 16 پیسے مہنگا ہوا۔ یکم مارچ سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 9.59 روپے فی لیٹر اضافے کا امکان ہے۔

یکم جولائی کو پٹرول کی قیمت میں دو روپے کا اضافہ ہوا اور قیمت 110 روپے 69 پیسے سے بڑھ کر 112 روپے 69 پیسے ہوگئی۔ 16 جولائی کو 5 روپے 40 پیسے فی لیٹر مہنگا ہوا۔ یکم اگست کو پٹرول کی قیمت ایک روپے 71 پیسے بڑھی، سولہ اگست کو قیمت برقرار رہی۔

یکم ستمبر کو پٹرول ایک روپے 50 پیسے سستا ہوا، 16 ستمبر کو قیمت میں 5 روپے اضافہ ہوا، یکم اکتوبرکو پٹرول 4 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا، 16 اکتوبر کو قیمتوں میں ریکارڈ 10 روپے 49 پیسے اضافہ ہوا اور فی لیٹر قیمت 127 روپے 30 پیسے سے بڑھ کر 137 روپے 79 روپے ہوگئی۔

حکومت کی جانب سے یکم نومبرکو ایک بار پھر پٹرول 8 روپے 3 پیسے مہنگا کردیا گیا۔ پندرہ نومبر اور یکم دسمبر کو پٹرول کی قیمتیں برقرار رکھی گئیں۔ 16 دسمبرکو حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 5 روپے فی لیٹر کمی کردی، جس کے بعد نئی قیمت 140 روپے 82 پیسے مقررہوئی۔

یکم جنوری کو قیمتیں برقرار رہیں، 15 جنوری کو حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی 3 روپے تک اضافہ کیا۔ یکم فروری کو حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو برقرار رکھا۔

15 فروری کو پٹرول کی قیمت میں 12 روپے تین پیسے کا اضافہ کیا گیا جس کے بعد فی لٹر پٹرول کی قیمت 159 روپے 86 پیسے تک جا پہنچی۔ یکم مارچ سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 9.59 روپے فی لیٹر اضافے کا امکان ہے جس پر عوام نالا ہیں۔

 16 فروری کو خام تیل کی قیمت 94 ڈالر فی بیرل یومیہ تھی۔ یوکرین پر روسی حملے کے نتیجے میں قیمتوں میں اضافہ ہوا جو 2014 کے بعد پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔