Tuesday, October 4, 2022

یونیسکو میں مسجد اقصیٰ قرارداد کی منظوری نے اسرائیل کو شرمندہ کر دیا

یونیسکو میں مسجد اقصیٰ قرارداد کی منظوری نے اسرائیل کو شرمندہ کر دیا
یروشلم (ویب ڈیسک) مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی قبضے کیخلاف قرارداد منظور ہونے پر اسرائیل نے یونیسکو کے ساتھ تعلقات معطل کر دیے۔ تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو میں گزشتہ روز مسجد اقصیٰ کے بارے ایک قرارداد پیش کی گئی جسے بھاری اکثریت سے منظور کر لیا گیا۔ قرارداد میں مسجد اقصیٰ کے بارے میں اسرائیلی پالیسیوں کو ہدف تنقید بنایا گیا اور مسلمانوں کے داخلے پر پابندیوں کی مذمت کی گئی۔ قرارداد میں یروشلم کے مقدس مقام حرم الشریف پر مسلمانوں کا حق تسلیم کیا گیا جس پر اسرائیل سیخ پا ہو گیا اور یونیسکو کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے تعلقات معطل کر ڈالے۔ خیال رہے کہ حرم الشریف وہ جگہ ہے جہاں پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج پر جانے سے قبل قیام کیا تھا۔ یونیسکو میں مذکورہ قرارداد کو سات عرب ملکوں الجیریا‘ مصر‘ لبنان‘ مراکو‘ اومان‘ قطر اور سوڈان نے مشترکہ طور پر پیش کیا۔ قرارداد کے حق میں چوبیس ووٹ پڑے جبکہ چھبیس ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ امریکہ‘ برطانیہ‘ نیدرلینڈ‘ جرمنی‘ لیتھونیا اور ایسٹونیا نے قرارداد کی مخالفت میں ووٹ ڈالا جبکہ پاکستان‘ چین‘ روس‘ میکسیکو اور ساﺅتھ افریقہ سمیت دیگر ممالک نے قرارداد کے حق میں ووٹ ڈالا۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اس کا مقصد فلسطین اور مشرقی یروشلم کی مخصوص ثقافت کا تحفظ ہے۔ قرارداد میں اسرائیلی جابرانہ اقدامات کی باربار مذمت کی گئی ہے جن میں طاقت کا بے جا استعمال اور مسلمان عبادت گزاروں اور تاریخی آثار پر پابندیاں لگانا شامل ہیں۔ دوسری جانب فلسطینیوں نے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے فیصلے کے فوری بعد کہا یہ اسرائیل کے لیے پیغام ہے کہ وہ اپنا قبضہ ختم کر کے یروشلم کو مسلمانوں کا دارالحکومت تسلیم کرے۔