Monday, May 16, 2022

پیکا ترمیمی آرڈیننس پارلیمنٹ کے سامنے نا رکھنا ایگزیکٹو کی بدنیتی ثابت کرتا ہے، چیف جسٹس اطہر من اللہ

پیکا ترمیمی آرڈیننس پارلیمنٹ کے سامنے نا رکھنا ایگزیکٹو کی بدنیتی ثابت کرتا ہے، چیف جسٹس اطہر من اللہ
March 30, 2022 ویب ڈیسک

اسلام آباد (92 نیوز) - پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف متفرق درخواستوں کی سماعت میں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دئیے کہ آرڈیننس پارلیمنٹ کے سامنے نا رکھنا ایگزیکٹو کی بدنیتی ثابت کرتا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی بی اے و دیگر صحافتی تنظیموں کی پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں ہوئی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے دلائل میں کہا کہ آرڈیننس جاری کرنے سے متعلق مختلف پہلوئوں کو دیکھنا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایگزیکٹو کے پاس آئین کی خلاف ورزی کا کوئی اختیار نہیں ۔ آئین کہتا ہے آرڈیننس پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پیش کیا جائے گا۔ اگر پارلیمنٹ کا ایک ایوان آرڈیننس کو مسترد کر دیتا ہے تو وہ ختم ہو جائے گا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے  کہا کہ  کیوں نا عدالت سیکشن 20 کو کالعدم قرار دے دے۔ اختلاف رائے، تنقیدی آوازیں رکھنے والے اور صحافیوں کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے۔ ایف آئی اے پبلک آفس ہولڈرز کا ٹول نہیں ہے۔ ہماری معاشرے کی ویلیوز خراب ہو گئی ہیں تو کیا اب سوسائٹی ساری کو اندر کر دیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں پیکا آرڈیننس کا معاملہ پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ حکومت اس آرڈیننس کو ہی واپس لے لے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت تو اس کیس کو پس پشت نہیں ڈال سکتی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت 4 اپریل تک ملتوی کر دی۔