Tuesday, August 9, 2022

پی ٹی آئی پر 80 کروڑ روپے کی ممنوعہ فنڈنگ ثابت، الیکشن کمیشن کا متفقہ فیصلہ

پی ٹی آئی پر 80 کروڑ روپے کی ممنوعہ فنڈنگ ثابت، الیکشن کمیشن کا متفقہ فیصلہ
August 2, 2022 ویب ڈیسک

اسلام آباد (92 نیوز) – الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس میں متفقہ فیصلہ سنادیا، پاکستان تحریک انصاف پر 80 کروڑ روپے کی ممنوعہ فنڈنگ ثابت ہوئی، شوکاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

الیکشن کمیشن کے تین رکنی بینچ نے پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کا متفقہ فیصلہ سنا دیا، 80 کروڑ روپے کی ممنوعہ فنڈنگ ثابت ہونے پرپی ٹی آئی کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے سال 2008 سے 2013 تک غلط مالیاتی تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع کرائیں۔ 16 بینک اکائونٹس چھپانا آرٹیکل 17 کی خلاف ورزی ہے۔

الیکشن کمیشن کے تحریری فیصلے کے مطابق پی ٹی آئی نے امریکا، کینیڈا، برسٹل سروسز، ابراج گروپ، بھارتی خاتون رومیتا سیٹھی، آئی پی آئی اور یو ایس آئی سے فنڈنگ لی۔ کمیشن مطمئن ہوگیا کہ مختلف کمپنیوں سے ممنوعہ فنڈنگ لی گئی۔ پی ٹی آئی نے شروع میں 8 اکاؤنٹس کی تصدیق کی، 34 غیر ملکیوں اور 351 کارباری شخصیات سے فنڈز لیے اور 13 نامعلوم اکاؤنٹس بھی سامنے آئے۔

الیکشن کمیشن فیصلہ کے مطابق پی ٹی آئی نے عارف نقوی کی ووٹن کرکٹ لمیٹڈ کمپنی سے 21 لاکھ 21 ہزار 500 ڈالر، امریکا سے دو ایل ایل سیز کے ذریعے 25 ہزار 500 ڈالر، سوئٹزر لینڈ اور مانچسٹر کی کمپنیوں سے ایک لاکھ ڈالر، برسٹل کمپنی سے 49 ہزار 965 ڈالر اور بھاری شہری رومیتا سیٹھی سے 13 ہزار 750 ڈالر وصول کئے۔

پی ٹی آئی کو ممنوعہ فنڈنگ پر شوکاز نوٹس جاری کرنے اور فیصلہ کی کاپی وفاقی حکومت کو بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ شوکاز نوٹس میں پی ٹی آئی سے ممنوعہ فنڈنگ پر وضاحت مانگی جائے گی۔ وضاحت نہ آنے پر ممنوعہ فنڈنگ کو بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے کیس کا فیصلہ 21 جون کو محفوظ کیا تھا، پی ٹی آئی کے بانی رکن اکبرایس بابر نے کیس 14 نومبر2014 کو دائر کیا تھا۔

پی ٹی آئی نے 8 سالہ طویل سماعت میں 30 مرتبہ التوا مانگا، 6 بار کیس کے ناقابل سماعت ہونے، دائرہ اختیار پر درخواستیں دائر ہوئیں۔ 21 بار پی ٹی آئی کو دستاویزات، مالی ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی۔

فنڈنگ کی جانچ پڑتال کیلئے مارچ 2018 میں اسکروٹنی کمیٹی بنی، اسکروٹنی کمیٹی نے دستاویزات کیلئے 20 بار حکم جاری کیا۔ اسکروٹنی کمیٹی نے نومبر2021 میں آڈٹ رپورٹ جمع کرائی۔