Saturday, October 1, 2022

پی ٹی آئی کا قومی اسمبلی سے استعفے کا اعلان، وزارت عظمٰی کے الیکشن کا بائیکاٹ

پی ٹی آئی کا قومی اسمبلی سے استعفے کا اعلان، وزارت عظمٰی کے الیکشن کا بائیکاٹ
April 11, 2022 ویب ڈیسک

اسلام آباد (92 نیوز) پی ٹی آئی نے اسمبلی سے استعفے کا اعلان کردیا، پی ٹی آئی نے وزارت عظمٰی کے الیکشن کا بائیکاٹ کردیا۔ تمام ارکان ایوان سے باہر چلے گئے۔

قومی اسمبلی اجلاس سے شاہ محمود قریشی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج قوم نے دونوں میں سے ایک راستہ چننا ہے، ایک خودی اور دوسرا غلامی کا راستہ ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے مجھ پر اعتماد کیا جس پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں، میں اپنے تمام ممبران کا شکر گزار ہوں جو جھکے نہیں بکے نہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ ایک نئی جماعت نے ارتقاء سے گزرتے ہوئے نظریاتی سوچ کو عوام کے دلوں میں پیوست کردیا ہے ایک طرف ملک کی ایک سوچ کا عکاس طبقہ بیٹھا ہے، دوسری جانب ایک غیر فطری اتحاد بیٹھا ہے۔

شاہ محمود بولے کہ تاریخ گواہ ہے کہ بہت سی معزز جماعتیں یکجا مگر ان میں نظریاتی ہم آہنگی ہے۔ جے یو آئی ایک سیاسی جماعت ہے، اسی ایوان میں بیٹھے ایک جماعت نے مفتی محمود کو یہاں سے نکالا، یہاں اے این پی بیٹھی ہے، یہیں ایک جماعت نے ان کے خلاف مقدمات بنائے۔ آج پیپلز پارٹی یہاں بیٹھی ہے، اسکے ساتھ وہ ہے جنہوں نے محترمہ کی بے توقیری کی، آج قاتل و مقتول یہاں اکٹھے بیٹھے ہیں۔ آج اختر مینگل یہاں بیٹھے ہیں مگر ان کے ساتھ بیٹھے ہیں جن کے جلیل القدر والد عطاء مینگل سے جیل چکیاں پسوائی گئیں۔ آج ایم کیو ایم بھی بیٹھی ہے جو تین سال آٹھ ماہ حزب اختلاف کا کردار سندھ میں ادا کرتی رہی۔

پی ٹی آئی کے نائب صدر نے کہا کہ جب عمران جارہے ہیں تو معیشت کی گروتھ پانچ فیصد ہے، عمران خان نے قومی لباس اور قومی زبان کو عزت، فروغ دیا۔ احساس پروگرام کے ذریعے کروڑوں غریب لوگوں کو جینے کا حق دیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ تاریخ گواہ ہے ان میں کوئی ہم آہنگی نہیں، اپوزیشن کا اتحاد دیرپا نہیں ہوگا، جلد بکھر جائے گا۔ آج منتخب ہونے والے وزیراعظم کی لاہور میں پیشی تھی، ان پر آج لاہور میں فرد جرم عائد ہونی تھی، یہ منتخب ہوکر اپنے کیسز کو دبائیں گے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ثابت ہوگیا عوام کیلئے قانون الگ اور خواص کیلئے الگ ہے، شہباز شریف قوم پر مسلط کیا جارہا ہے، شہباز شریف کے پاس قوم کا مینڈیٹ نہیں ہے۔ کون نہیں جانتا شہباز شریف کو مسلط کیا جا رہا ہے، شہبازشریف 14 سال بعد چودھری برادری کی تیمارداری کرنے گئے۔ بھٹو کے نواسے، بی بی کے بیٹے کو شہباز شریف کے ماتحت وزارت خارجہ نہیں جچتی۔

اُنہوں نے کہا کہ آنے والے وزیراعظم کہتے تھے پیٹ پھاڑ کر لوٹی ہوئی دولت واپس لاؤں گا، 70 سالہ تاریخ میں ہونے والے ہر الیکشن پر سوالات اٹھائے گئے، 40 سال حکومت کرنے والوں نے عمران خان کو 4 سال بھی پورے نہیں کردیئے گئے۔ پاکستان کی انوکھی جمہوریت، باپ وزیراعظم اور بیٹا وزیراعلیٰ۔ عوام نے امپورٹڈ حکومت مسترد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تحریک انصاف نے وزارت عظمیٰ کے الیکشن کا بائیکاٹ کردیا۔