Thursday, October 6, 2022

پی ایس او نے حکومت سے 600 ارب روپے کا بیل آؤٹ پیکیج مانگ لیا

پی ایس او نے حکومت سے 600 ارب روپے کا بیل آؤٹ پیکیج مانگ لیا
September 23, 2022 ویب ڈیسک

اسلام آباد (92 نیوز) - پی ایس او نے حکومت سے 600 ارب روپے کا بیل آؤٹ پیکیج مانگ لیا۔ پٹرولیم سپلائرز کو رقم ادا نہ کی گئی تو پٹرول پمپوں کو سپلائی بند ہو جائے گی۔

سوئی سدرن ،سوئی  ناردرن  اور پی آئی اے  پی ایس او کے 600 ارب روپے کے قرض دار نکلے۔ پی آئی اے نے پی ایس او سے ایندھن لیا ، استعمال کیا ، فضائی ٹکٹس بھی فروخت کیئے  مگر پی ایس او کو واجبات ادا نہ کیے۔ گیس کمپنیاں بھی کہاں پیچھے رہنے والی تھی ۔ کمپنیاں صارفین سے ماہانہ بل وصول کرتی رہی لیکن پی ایس او کو ادائیگی کا خیال نہ رہا۔

ذرائع وزارت خزانہ کا کہنا ہے پی ایس او نے حکومت سے 600 ارب روپے کا بیل آؤٹ پیکج کا تقاضہ کر دیا ہے۔ موقف اپنایا کہ اگر پٹرولیم سپلائر کو رقم ادا نہ کی گئی تو ملکی پٹرول پمپوں کو سپلائی بند ہو جائے ۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار  تین بڑے ادارے اتنی بڑی رقم کے نیچے دب گئے ہیں۔

وزارت خزانہ نے واجب الادا رقوم کی تفصیلات 92نیوز سے شیئر کر دی۔ 350 ارب روپے کے ساتھ سوئی نادرن سب سے بڑا ڈیفالٹر قرار، پاور سپلائی اداروں کے ذمے 150 ارب روپے واجب الادا ہیں جبکہ 10 ارب روپے کی رقم پر پرائسنگ کا تنازعہ ہے۔ بقیہ رقم  سوئی سدرن اور پی آئی اے کے ذمہ واجب الادا ہے۔