Friday, May 20, 2022

پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں ہنگامہ آرائی، وزارت اعلی کیلئے ووٹنگ چھ اپریل تک ملتوی

پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں ہنگامہ آرائی، وزارت اعلی کیلئے ووٹنگ چھ اپریل تک ملتوی
April 3, 2022 ویب ڈیسک

لاہور (92 نیوز) - وزیراعلی پنجاب کا چناؤ بھی آج نہ ہو سکا۔ پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں ہنگامہ آرائی کے باعث وزارت اعلی کیلئے ووٹنگ چھ اپریل تک ملتوی کر دی گئی۔

پنجاب اسمبلی کا قائد ایوان کے انتخاب کے لیے بلایا گیا اہم ترین اجلاس بغیر کارروائی ملتوی کر دیا گیا۔ پنجاب اسمبلی کا ون پوائنٹ ایجنڈا، وزیرِ اعلیٰ کا انتخاب تھا۔ اجلاس کی صدارت ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے کی۔ تلاوت اور نعت کے ختم ہوتے ہی ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی۔ حکومت اور اپوزیشن کی خواتین گتھم گتھا ہو گئی۔

مسلم لیگ ن کی رکن جگنو محسن نے کہا کہ اپوزیشن بنچز پر باقاعدہ حملہ کیا گیا۔ میڈیا سے بات چیت میں چودھری پرویز الہی نے کہا کہ لڑائی کی وجہ سے اجلاس ملتوی ہوا۔

اجلاس سے قبل جوڑ توڑ بھی جاری رہا۔ جہانگیر خان ترین گروپ کے رہنما نعمان لنگڑیال نے کہا ان کے 13 ارکان حمزہ شہباز کو ووٹ دیں گے۔ راہ حق پارٹی نے اپنا واحد ووٹ مسلم لیگ ن کو دینے کا اعلان کیا۔ ترین گروپ کے ارکان اشرف رند، عون ڈوگر اور علمدار قریشی نے پرویزالہی کو ووٹ دینے کا اعلان کیا۔ علیم خان گروپ کے ارکان خرم لغاری اور اویس دریشک پہلے ہی پرویز الہی کے پاس آ گئے تھے۔

اجلاس کے موقع پر پنجاب اسمبلی میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔ صرف ارکان اسمبلی کو پنجاب اسمبلی آنے کی اجازت دی گئی۔ متحدہ اپوزیشن کے وزارت اعلی کے نامزد امیدوار حمزہ شہباز کو بھی روک لیا گیا جس پر انہوں نے برہمی کا اظہار کیا۔ لابی کا دروازہ بند ہونے پر مسلم لیگ ن کی رہنما عظمی بخاری نے برہمی کا اظہار کیا۔

پنجاب اسمبلی میں پریس گیلری کو تالا لگا کر صحافیوں کو بھی روک دیا گیا جس پر صحافیوں نے احتجاج بھی کیا۔ پنجاب اسمبلی کی سیڑھیوں پر تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کی خواتین ارکان اپنے امیدواروں کے حق میں نعرے بازی کرتی رہیں۔