Saturday, May 21, 2022

پارلیمنٹ کے کسی رکن کو ووٹ ڈالنے سے روکا نہیں جا سکتا، چیف جسٹس کے ریمارکس

پارلیمنٹ کے کسی رکن کو ووٹ ڈالنے سے روکا نہیں جا سکتا، چیف جسٹس کے ریمارکس
March 24, 2022 ویب ڈیسک

اسلام آباد (92 نیوز) - آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نےصدارتی ریفرنس کی سماعت کی۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ آرٹیکل 63 اےمیں نااہلی کا پورا نظام موجود ہے، اصل سوال صرف نااہلی کی مدت کا ہے، یہ بھی ریمارکس دئیے کہ ووٹ ڈال کرشمارنہ کیا جانا توہین آمیز ہے۔

،اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا آرٹیکل باسٹھ ون ایف کہتا ہے رکن اسمبلی کو ایمانداراورامین ہونا چاہیے، کیا پارٹی سے انحراف کرنے پرانعام ملنا چاہیے، انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ بار کی درخواست میں اسپیکر قومی اسمبلی بھی فریق ہیں، عدالت نے صوبائی حکومتوں کو بھی صدارتی ریفرنس پر نوٹس جاری کردیے۔

اٹٓارنی جنرل نے بتایا کہ جے یو آئی نے کشمیر ہائی وے پر دھرنے کی درخواست کی ہے، کشمیر ہائی وے اہم سڑک ہے جو راستہ ائیرپورٹ کو جاتا ہے، جے یوآئی کے وکیل کامران مرتضی نے بتایا کہ ان کا جلسہ اوردھرنا پرامن ہوگا، جس پرچیف جسٹس نے کہا آپ سے حکومت والے ڈرتے ہیں، چیف جسٹس کی ابزرویشںن پر عدالت میں قہقہ لگ گیا۔

جسٹس مظہرعالم نے کہا پی ٹی آئی کی جانب سے ڈنڈا بردار ٹائیگر فورس بنانا افسوس ناک ہے، جے یو آئی بھی اپنے ڈنڈے تیل سے نکالے۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسارکیا کہ کیا ارٹیکل 63A میں نااہلی کا ذکر ہے؟جس پراٹارنی جنرل  نےکہا کہ آرٹیکل 63A کی ہیڈنگ ہی نااہلی سے متعلق ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 62-63-63A کو الگ الگ نہیں پڑھا جاسکتا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نےریمارکس دئیے کہ چار مواقع پر اراکین اسمبلی کا پارٹی ڈسپلن کی پابندی لازمی ہے،انہوں نے کہا پارٹی ڈسپلن کی پابندی لازمی بنانے کے لیے ارٹیکل 63A لایا گیا۔،جسٹس منیب اخترنے ریمارکس دئیے کہ سیاسی جماعتیں ادارے ہیں،ڈسپلن کی خلاف ورزی سے ادارے کمزور ہوتے ہیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نے استفسارکیا کہ کیا دوسری کشتی میں چھلانگ لگا کر حکومت گرائی جاسکتی ہے؟ زیادہ تر جہموری حکومتیں چند ووٹوں کی برتری سے قائم ہوتی ہیں، جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ دوسری کشتی میں چھلانگ لگانے والے کو سیٹ سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے، جسٹس منیب اخترنے ریمارکس دئیے کہ چھلانگیں لگتی رہیں تو معمول کی قانون سازی بھی نہیں ہوسکتی،انہوں نے کہا کہ انفرادی شیخصات کو طاقتور بنانے سے ادارے تباہ ہو جاتے ہیں، انہوں نے کہا سب نے اپنی مرضی کی تو سیاسی جماعت ادارہ نہیں ہجوم بن جائے گی۔

جسٹس جمال مندوخیل نے اٹارنی جنرل سے استفسارکیا کہ کیا آپ پارٹی لیڈرکو بادشاہ سلامت بنانا چاہتے ہیں؟جس پراٹارنی جنرل نے کہا کسی کوبادشاہ نہیں تولوٹابھی نہیں بناناچاہتے، انہوں نے کہا کہ پارٹی پالیسی سے انحراف پرتاحیات نااہلی ہونی چاہیے، جس پرجسٹس منیب اخترنے ریمارکس دئیے کہ ایک تشریح تویہ ہے کہ انحراف کرنےوالے کا ووٹ شمارنہ ہو،جسٹس جمال مندوخیل نے استفسارکیا کہ کیا ڈی سیٹ ہونے تک ووٹ شمارہوسکتاہے؟ انہوں نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم میں ووٹ شمارنہ کرنے کا کہیں ذکرنہیں،انہوں نے کہا ووٹ اگرڈالا جاسکتاہے توشماربھی ہوسکتا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ اصل سوال اب نااہلی کی مدت کا ہے،انہوں نے کہا کہ آئینی اعتبارسے یہ اہم مقدمہ ہے،عدالت نے پیپلزپارٹی کے رضاربانی کو عدالتی معاون بنانے کی استدعا مستردکردی، کیس کی سماعت جمعہ کے روزدن ڈیرھ بجے تک ملتوی کردی گئی۔