Monday, October 3, 2022

پاکستان میں ایک لاکھ سے زائد تھیلسیمیا کے مریض موجود ہیں اورہر سال پاکستان میں پانچ ہزار سے آٹھ ہزار بچے پیدائشی تھیلسیمیا میجر کا شکار ہوتے ہیں، ریما اسماعیل

پاکستان میں ایک لاکھ سے زائد تھیلسیمیا کے مریض موجود ہیں اورہر سال پاکستان میں پانچ ہزار سے آٹھ ہزار بچے پیدائشی تھیلسیمیا میجر کا شکار ہوتے ہیں، ریما اسماعیل
March 2, 2022 ویب ڈیسک

 پاکستان میں تھیلسیمیا  کا مرض تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔ اس مرض کے پھیلاءو کی بنیادی وجہ آگاہی کا فقدان ہے

کراچی (سینئر تجزیہ نگار،  کاشف شمیم صدیقی)سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبہ مرکزمشاورت و رہنمائی کے زیرِ اہتمام تھیلسیمیا(Thalassemia) سے آگاہی کے ایک پروگرام کا  انعقاد کیا گیا جس کی مہمان ِ خصوصی گورنر سندھ عمران اسماعیل کی اہلیہ ریما اسماعیل تھیں ۔

 شرکاء میں گائیڈنس سینٹر کے کنوینئر سراج خلجی، ڈین فیکلٹی آف کمپیوٹنگ اینڈ اپلائیڈ سائنس، پروفیسر ڈاکٹر عقیل الرحمن، گائیڈنس سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شکیل، مدیحہ عادل،  ڈاکٹر تابندہ، منیرہ ولی الدین، حُسنہ سرفراز علی سمیت اساتذہ  اور طلباء کی ایک کثیرتعدادشامل تھی ۔ تھیلسیمیا ایک موروثی بیماری ہے جو والدین کی جینیاتی خرابی کے باعث اولاد کومنتقل ہوئی ہے ۔ اس بیماری کی وجہ سے مریض کے جسم میں خون کم بنتا ہے ۔ یہ خون میں ہمیوگلوبن کا پیدائشی نقص ہے ۔

اس موقع پر گورنر سندھ محترم عمران اسماعیل کی اہلیہ محترمہ ریما اسماعیل نے کہا کہ پاکستان میں تھیلسیمیا(Thalassemia) کا مرض تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔ اس مرض کے پھیلاؤ کی بنیادی وجہ آگاہی کا فقدان ہے ۔ اس طرح کے پروگراموں کے انعقاد سے لوگوں میں بیداری پیدا ہوگی اور  وہ بیماری سے  بچاؤ  اور حفاظت کے لیے بروقت قدم اٹھاسکیں گے ۔ انھوں نے جامعات میں تھیلسیمیا کی جانچ کو لازمی قراردینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسے ڈگری کے لیے لازمی شرط کے طور پر  لاگو کیاجانا چاہئے ۔ انھوں نے جامعات میں تھیلسیمیا  کی اسکریننگ کے لیے کیمپ لگانے کا بھی مشورہ دیا ۔

محترمہ ریما اسماعیل نے بتایا کہ ایشیاء کے ممالک میں یہ مرض زیادہ پھیلا ہواہے جبکہ دیگر ممالک اس پر کافی حد تک قابو پا چکے ہیں ۔ پاکستان میں لگ بھگ ایک لاکھ سے زائد تھیلسیمیا کے مریض موجود ہیں اورہر سال پاکستان میں پانچ ہزار سے آٹھ ہزار بچے پیدائشی تھیلسیمیا میجر کا شکار ہوتے ہیں ۔ ایک بچے کے علاج پر دس سے پچیس ہزار کا خرچہ آتا ہے ۔ علاج نہ کرانے کی صورت میں زندگی خطرے میں پڑ جاتی ہے ۔ ویسے بھی تھیلسیمیاکے مریض کی زندگی کی متوقع معیاد تقریباً  بارہ سال ہے ۔ یہ مرض دیہی علاقوں بالخصوص بلوچستان میں زیادہ ہے ۔

منظم اور عمدہ پروگرام منعقد کرنے پر سرسیدیونیورسٹی کی تعریف کرتے ہوئے گورنر سندھ کی اہلیہ ریما اسماعیل نے کہاکہ ہمارا عزم ہے کہ تھیلسیمیا کی روک تھام اور علاج کے لیے وسیع پیمانے پر آگاہی کی تحریک کو فروغ دیں اور ایسے مریضوں کی علاج تک رسائی میں سہولتیں فراہم کریں تاکہ مرض کا بروقت پتہ لگایا جا سکے اور اسے مطلوبہ طبی امداد مل سکے ۔ کیمپس میں تھیلسیمیا کی جانچ کے لیے کیمپ لگائے جائیں ۔ ہم نوجوانوں کو اس پروگرام میں شامل کرناچاہ رہے ہیں جو رضاکارانہ طور پر ہمارے ساتھ کام کریں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کی جانچ کو یقینی بنائیں ۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سرسید یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ولی الدین نے کہا کہ یہ ایک اہم انسانی مسئلہ ہے جس کا فوری تدارک ضروری ہے ۔ تھیلسیمیا کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے تمام این جی اوز اور متعلقہ اداروں کو حکومت کے اشتراک سے اجتماعی کوششیں کرنا ہوں گی تاکہ ایک صحت مند معاشرےکی تشکیل کو یقینی بنایا جاسکے ۔ تھیلسیمیا کے شکارتھیلسمین ویلفیئر آرگنائزیشن کے چیئرمین جتین چیلا رام کیولانی نے بھی اس موقع پراپنے تجربات شیئر کئے ۔ سرسید یونیورسٹی کے رجسٹرار کموڈور (ر) سیدسرفراز علی نے اظہارِ تشکر پیش کیا ۔

اس موقع پر ایک معلوماتی پریزنٹیشن پیش کی گئی اور گورنر ہاؤس کے ڈاکٹر عبدالمتین انصاری نے بیماری کی علامات اور اس سے بچاؤ  کے حوالے سے بڑی مفید معلومات فراہم کیں ۔