Monday, October 3, 2022

پی ڈی ایم کا وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ

پی ڈی ایم کا وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ
February 11, 2022 ویب ڈیسک

لاہور (92 نیوز) پاکستان ڈیموکریکٹ موومنٹ (پی ڈی ایم) نے وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کرلیا۔

جمعہ کے روز پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس کے بعد مولانافضل الرحمٰن اور شہبازشریف نے میڈیا سے گفتگو میں وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے فیصلہ کا اعلان کیا۔

مولانافضل الرحمٰن نے کہا کہ ناجائز حکومت کے خلاف عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس سلسلے میں رابطہ مہم شروع کریں گے۔ حکومتی اتحادیوں سے بھی رابطہ کیا جائے گا اور انہیں قائل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ پہلے ہم اس پر ہوم ورک مکمل کریں گے۔ حلیف جماعتوں کے بغیر عدم اعتماد کا ووٹ مکمل نہیں ہوگا۔

اُنہوں نے کہا کہ میں ہدف ایک ہی رکھوں گا، کبھی اپوزیشن پارٹی سے عوامی جنگ نہیں لڑوں گا، مجھے آپ کے سوال کا جواب خوب آتا ہے، ایسا جواب دوں گا کہ آپ عش عش کراٹھیں لیکن جواب نہیں دوں گا۔ ہمارا مقصد ایک ہی ہے، کسی اپوزیشن کی جماعت سے ہی جنگ کرنا درست بات نہیں۔

مولانا نے کہا اب حالات بدل چکے ہیں، کھیل کسی اور کے ہاتھ میں تھا جن کے ہاتھ سے کھیل نکل چکا ہے، گراؤنڈ تیار کرنے کے مراحل ابھی باقی ہیں، ہمیں عدم اعتماد کی گراؤنڈ تیار ہونے تک تھوڑی مہلت دی جائے۔  بغیر تیاری اگر عدم اعتماد لائیں گے تو ناکامی کے امکانات ہوں گے۔  اسٹیئرنگ کمیٹی کو تمام تفصیلات طے کرنے کی ہدایات دے دی ہیں۔

سربراہ پی ڈی ایم نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم سارے کارڈ نہیں دکھائیں گے، ہم نے عدم اعتماد کا اعلان اس لیے کیا ہے کیونکہ ہم نے کرنا بھی ہے اور کامیاب بھی ہونا ہے۔ وفاق سے صوبوں تک جہاں بھی گراؤنڈ ملے گی جائیں گے۔

اُن کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی یا سندھ حکومت کے خلاف نہیں، طے کیا ہے ہم کسی فردواحد سے نہیں سیاسی جماعت سے ہی بات کریں گے۔ ہم تحریک انصاف کے ارکان سے بھی رابطہ نہیں کریں گے۔ اپنے طور پر اگر کوئی رابطہ کرنا چاہے تو الگ بات ہے۔

قائدِحزب اختلاف شہبازشریف نے کہا عوام ہماری طرف دیکھ رہے ہیں کہ اس ظالم حکومت سے کون ان کی جان چھڑائے گا۔ مولانا اور پیپلزپارٹی کے تعلقات تو میرے اور مولانا کے تعلقات سے بھی پرانے ہیں۔

ادھر مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ جب دو بڑے بات کررہے ہیں تو میں صرف سنوں گی۔