Monday, June 27, 2022

پی اے سی کی پاور سیکٹر کے افسران و ملازمین کو مفت بجلی نہ دینے کی ہدایت

پی اے سی کی پاور سیکٹر کے افسران و ملازمین کو مفت بجلی نہ دینے کی ہدایت
June 23, 2022 ویب ڈیسک

اسلام آباد (92 نیوز) - پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پاور سیکٹر کے افسران و ملازمین کو مفت بجلی نہ دینے کی ہدایت کردی۔

چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نورعالم خان کی زیرصدارت اجلاس میں چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ لوڈ شیڈنگ کا شیڈول کیوں جاری نہیں کیا جاتا؟ سیکرٹری پاور ڈویژن نے بریفنگ میں نے بتایا کہ ان علاقوں میں لوڈ شیڈنگ زیادہ ہے جہاں چوری زیادہ ہے۔ 80 لاکھ بجلی صارفین کو سبسڈی اور دو تہائی صارفین کو سستی بجلی دینے کی وجہ سے بجلی لاگت پوری نہیں ہو پا رہی۔

سیکرٹری پاور ڈویژن کے مفت یونٹ ختم کر کے ملازمین کو الائونس دینے کی تجویز پی اے سی نے تسلیم کر لی۔ سیکرٹری نے میڈیا کو بتایا کہ لوڈشیڈنگ کو منج کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

کمیٹی ممبر شیخ روحیل اصغر بولے بجلی چوری روکنے کیلئے ڈسکوز کی اپنی سیکورٹی فورس ہونی چاہئے۔ افضل ڈھانڈلہ نے کہا کہ بڑے چور واپڈا سے ملے ہیں ایک پنکھا چلانے والا پکڑا جاتاہے۔ دوران اجلاس چیئرمین کمیٹی نے دستاویزات میڈیا کو دینے کی تجویز دیتے تو شبلی فراز نے کہا کہ کوئی غیر تصدیق شدہ یا غیر حتمی چیز میڈیا میں تقسیم نہ کی جائے۔

چیئرمین کمیٹی نورعالم خان نے کہا کہ موٹروے ریسٹ ایریاز میں 50 روپے کی چیز سو روپے میں فروخت کی جاتی ہے۔ جس پرسیکرٹری مواصلات کا کہنا تھا کہ ریسٹ ایریاز ٹک شاپس میں اشیاء کی قیمتوں کو مانیٹر کرنا صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔