Tuesday, August 9, 2022

نیب ترامیم سے متعلق کیس کا فیصلہ عجلت میں نہیں کریں گے، سپریم کورٹ

نیب ترامیم سے متعلق کیس کا فیصلہ عجلت میں نہیں کریں گے، سپریم کورٹ
August 5, 2022 ویب ڈیسک

اسلام آباد (92 نیوز) - سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ نیب ترامیم سے متعلق کیس کا فیصلہ عجلت میں نہیں کریں گے۔ نیب قانون میں اچھی ترامیم بھی کی گئی ہیں۔

نیب ترامیم کے خلاف تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی درخواست پر سماعت چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔

چیف جسٹس کے استفسار پر درخواست گزار کے وکیل خواجہ حارث نے بتایا کہ میری اطلاعات کے مطابق ترمیم کی گئی ہیں۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آپ ان ترامیم سے متعلق مزید تفصیل جمع کرائیں، شاہد پہلے پانچ ملین والی بات نہیں تھی لیکن اب شامل کی جاچکی ہے؟۔ کیاکی گئی ترامیم صدرمملکت کے پاس منظوری کے لئے بھیجی گئی ہیں؟۔

چیف جسٹس نے خواجہ حارث کو تفصیلی تحریری معروضات جمع کرانے کا کہا۔ خواجہ حارث بولے نیب قانون میں کل ہونے والی ترامیم بھی چیلنج کرینگے، یہ ترامیم آئین کے سیلیئنٹ فیچرکی انکروچمنٹ ہے، عدالت آئینی ترمیم کو بنیادی ڈھانچہ سے متصادم ہونے پر کالعدم کر سکتی ہے۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ نیب ترامیم سے عدلیہ کا کونسا اختیار کم کیا گیا، یہاں مقدمہ قانون میں متعارف ترامیم کا ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ احتساب پارلیمانی جمہوریت کا حصہ ہے، آپ کا مؤقف ہے نیب ترامیم سے احتساب کے اختیارات کو کم کردیا گیا۔

چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیئے ہیں کہ انتخابات خود احتساب کا ایک ذریعہ ہیں، جہاں ووٹر اپنے نمائندوں کا احتساب خود کرتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس احتساب کیلئے ضروری ہے، چھوٹی چھوٹی ہائوسنگ سوسائٹیزمیں لوگ ایک دوپلاٹوں کے کیس میں گرفتار ہوئے، پہلے ہرمقدمہ انسداد دہشتگردی کی عدالت میں جاتا تھا، سپریم کورٹ نے فیصلہ دے کر انسداد دہشتگردی عدالت سے بوجھ کم کیا۔ بعد میں کیس کی سماعت 19 اگست تک ملتوی کردی گئی۔