Friday, August 12, 2022

معرکہ کارگل کے ہیرو کیپٹن کرنل شیر خان شہید کا آج 23 واں یومِ شہادت منایا جارہا ہے

معرکہ کارگل کے ہیرو کیپٹن کرنل شیر خان شہید کا آج 23 واں یومِ شہادت منایا جارہا ہے
July 5, 2022 ویب ڈیسک

اسلام آباد (92 نیوز) - کارگل کے محاذ پر وطن عزیز کا دفاع کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرنے والے کیپٹن کرنل شیر خان شہید کا آج 23 واں یومِ شہادت منایا جارہا ہے۔ انہوں نے معرکہ کارگل میں لازوال بہادری، جرآت کا مظاہرہ کیا۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے گاؤں صوابی کے نوا کلی کے جری ثبوت کرنل شیر خان یکم جنوری 1970ء کو پیدا ہوئے۔ آپ 1992 میں پاک فوج کا حصہ بنے۔ 27 سندھ رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔ کارگل میں 12 ناردرن لائٹ انفینٹری میں تعینات ہوئے۔ کیپٹن کرنل شیر خان نے پلاٹون کمانڈر کے طور پر گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ کیپٹن کرنل شیر خان کا غازی سے شہید تک کا سفر سنہرا بھی ہے اور انمول بھی۔

کارگل کا محاذ اور بلتری کے برف پوش پہاڑ، موسم ایسا کہ سانس بھی جم جائے لیکن جذبہ وہ کہ چھٹانیں جھک جائیں۔ کرنل شیرخان 17 ہزار فٹ تک بلند پہاڑوں اور موسمی حالات سے لڑے اور اہم تزویراتی مقامات پر پانچ فوجی چوکیاں قائم کیں۔ 7 اور 8 جون کی درمیانی شب بھارتی فوج کی ایک بٹالین نے عقب سے چھپ کر بزدلانہ وار کیا تو اسے ناکام بنایا۔ چالیس سے زیادہ بھارتی فوجی واصل جہنم کیے۔ دشمن پسپا ہوا۔ دشمن کو ناقابل تلافی نقصان پہینچانے والا کرنل شیر خان دشمن کو کھٹک رہا تھا۔ بدلے کی آگ میں جلتا دشمن بھاری توپ خانے کے استعمال سے کئی اطراف سے گھیرے میں لے کر کچھ علاقہ قبضہ کیا ہی تھا کہ سپاہ کے ساتھ کرنل شیر خان نے پیش قدمی کرکے نہ صرف کھویا ہوا علاقہ واگزار کرایا بلکہ دشمن پر تابڑ توڑ حملہ کرکے دشمن کو پسپا کر دیا۔ تاہم اسی دوران بھارتی مشین گن کی فائرنگ سے شدید زخمی ہوگئے۔

کیپٹن کرنل شیر خان برف پوش پہاڑوں پر چھٹان حوصلہ کے ساتھ دشمن کیلئے قہر الہیٰ ثابت ہوئے۔ نہ صرف دشمن کو پسپائی پر مجبور کیا بلکہ وطن کی دفاع کرتے ہوئے جان کا نذرانہ بھی پیش کیا۔ دشمن کے آگے نہ اپنا سر جھکایا نہ قوم کا سر جھکنے دیا۔ دشمن نے بھی شہید کی شجاعت کا برملا اعتراف کیا۔ پانچ جولائی 1999ء کو اپنے خون سے دھرتی ماں کی آبیاری کرنے والے کرنل شیر خان کو بے مثل جرآت پر ملک کے سب سے بڑے اعزاز نشانہ حیدر سے نوازا گیا۔