Monday, June 27, 2022

مراد علی شاہ نے اپنے خلاف کیس جھوٹا قرار دے دیا

مراد علی شاہ نے اپنے خلاف کیس جھوٹا قرار دے دیا
June 16, 2022 ویب ڈیسک

اسلام آباد (92 نیوز) - وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے اپنے خلاف کیس جھوٹا قرار دے دیا۔

احتساب عدالت اسلام آباد میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا احتساب عدالت میں 22ویں حاضری تھی ۔ ہر پیشی پر ہر شخص کا ایک لاکھ روپے خرچ ہو رہا ہے۔ ریفرنس میں نامزد لوگوں کے وکلا پر بھی خرچہ ہو رہا ہے ۔ ایسا کیس جس کا نہ سر ہے نہ پیر ہے، سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کیلئے ہمارے خلاف ریفرنس بنایا گیا ۔ جو لوگوں کا نقصان ہو رہا ہے اسکا حساب کتاب ضرور لیا جائیگا ۔ اس ریفرنس میں کسی سرکاری افسر پر ایک آنت کی کرپشن کا الزام نہیں ہے۔ پاور پلانٹ آج بھی کے الیکٹرک کو سپلائی دے رہا ہے۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کرپشن انکے ذہن کا ایک فتنہ تھا ۔ نیب عدالت سمیت سب کا ٹائم ضائع کر رہا ہے۔ کسی سرکاری افسر کے اوپر ایک روپیہ کی کرپشن ثابت نہیں ہو سکی۔ یہ انکے ذہن کا فتنہ تھا۔ چار سال سے جعلی جھوٹا کیس بنا کر وقت کا ضیائع کر رہے ہیں۔ یہ پیسہ کسی اور جگہ پر خرچ ہو سکتا تھا۔ صدر صاحب آرڈیننس کے لیے تو رات بارہ بجے اٹھ کر دستخط کر دیتے ہیں۔ صدر صاحب سوتے رہے ہیں یہ بھی قانون بن جائے گا۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا صدر مملکت کسی ایک شخص کی مرضی پر چلنے کی بجائے ملک کے لیے سوچیں، پارلیمنٹ کا لحاظ رکھیں ۔ نیب قانون میں جو ترمیم ہوئی وہ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق ہیں۔ پارلیمنٹ نے اپنا کام کر دیا ہے۔ ہم بھی چاہتے تو یہ قانون رکھتے تو انکو چودہ چودہ دن کے لیے اندر رکھتے۔