Tuesday, November 29, 2022

ٹھیک ہوتے ہی پھر سڑکوں پر نکلوں گا اور اسلام آباد کی کال دوں گا، عمران خان

ٹھیک ہوتے ہی پھر سڑکوں پر نکلوں گا اور اسلام آباد کی کال دوں گا، عمران خان
November 4, 2022 ویب ڈیسک

لاہور (92 نیوز) – چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ ٹھیک ہوتے ہی پھر سڑکوں پر نکلوں گا اور اسلام آباد کی کال دوں گا۔

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے چارگولیاں لگیں، وزیرآباد یا گوجرانوالہ میں حملہ ہوگا، مجھے ایک دن پہلے معلوم تھا۔ انہوں نے فیصلہ کیا عمران خان کا سلمان تاثیر جیسا قتل کرایا جائے، پلان بنایا گیا ہے کہ دینی انتہا پسند عمران خان کو قتل کردیا گیا، پتہ تھا کون ان کو پروجیکٹ کررہاہے،،میں ویڈیو بنا ئی ہوئی ہے۔ تین لوگوں نے مجھے مارنے کا پلان بنایا، اللہ نے بچایا، انہوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔

عمران خان نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ میرے کنٹینر پر دو طرف سے فائرنگ کی گئی، گرا تو فائرنگ کرنے والے کو لگا مرگیا ہوں۔ جو پکڑا گیا ہے اس کے ساتھ اور لوگ بھی ملوث ہیں، ابتسام نے دلیری نہ دکھائی ہوتی تو مزید تباہی ہوتی، پاکستان کی سب سے بڑی جماعت کے لیڈر کو انصاف نہیں مل رہا، ایف آئی آر درج کرانے کی کوشش کررہے ہیں۔

سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا چیف جسٹس صاحب پاکستان کو بچائیں، پاکستان کے سب سے بڑی جماعت کے لیڈر کو انصاف نہیں مل رہا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال سوموٹو نوٹس لیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ سمجھے ممی ڈیڈٰی پارٹٰی ہے، ختم ہوجائے گی مگر عوام نے امپورٹڈ حکومت کو مسترد کردیا۔ قوم کو سمجھنا چاہیے کہ ہوا کیا ہے، بیرونی سازش میں کہا گیا تھا عمران خان کو ہٹا دیا تو کچھ نہیں ہوگا۔ پاکستانی قوم وہ کرتی ہے جو پہلے اس نے کیا نہیں۔

عمران خان نے کہا کہ رانا ثنا اللہ اور شہباز شریف نے ماڈل ٹاؤن میں لوگوں پر ظلم کیا، لوگوں کا قتل کیا گیا ان لوگوں کے انسانی جان کچھ نہیں ہے۔ جب سے یہ دونوں خاندان حکومت میں آئے ملک نیچے جارہا ہے، آزادی پر آپ نے کمپرومائز نہیں کرنا، احتجاج آپ کا آئینی حق ہے، ناانصافی کے خلاف جہاد کرنا ہے، جب تک یہ لوگ استعفی نہیں دیتے یہ کیس آگے نہیں بڑھ سکتا۔

اُن کا کہنا تھا کہ حکومت کبھی تحریک عدم اعتماد میں ناکام نہیں ہوتی، اس کے پاس وسائل ہوتے ہیں۔ سخت گرمی میں عوام ہمارے جلسے میں شریک ہوتے تھے، کیا ان کے لیے لانگ مارچ جائز تھا، ہمارے لیے نہیں؟ نوے کی دہائی میں دو حکومتیں کرپشن پر نکالی گئیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی بولے کہ ضمنی الیکشن میں ساری حکومتی مشینری استعمال ہوئی، اس کے باجود پی ٹی آئی سویپ کرتی ہے۔ نظرآرہا ہے قوم اس حکومت کو مسترد کرچکی ہے۔17 مئی کے الیکشن میں الیکشن کمیشن نے دھاندلی کی، الیکشن کمیشن نے ای وی ایم کو روکا، لوگ چوروں کو قبول نہیں کررہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ حدیبیہ پیپر ملز پر این آر او مل جاتا ہے، نوازشریف کی ایون فیلڈ پکڑی جاتی ہے، یہ جھوٹ پر جھوٹ بول رہے ہیں، کہہ رہے ہیں کہ ہمیں عمران خان کیساتھ لیول پلیئنگ فیلڈ دو، عمران خان نے فلیٹ خریدا ان کی منی ٹریل دی، یہ مجھ سے مقابلہ کررہے ہیں؟

اُن کا کہنا تھا کہ لیگل فنڈ ریزنگ کی ہے، جہنوں نے پی ٹی آئی کو پیسے دیئے ان کو ایف آئی اے فون کررہی ہے، یہ چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کا ڈونر بھاگ جائے، ہم عوام سے پیسہ اکٹھا کرتے ہیں، ہم عوام کے مفاد کیلئے کھڑے ہوسکتے ہیں۔