Tuesday, August 9, 2022

لاہور ہائیکورٹ میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کی انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت کل تک ملتوی

لاہور ہائیکورٹ میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کی انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت کل تک ملتوی
June 29, 2022 ویب ڈیسک

لاہور (92 نیوز) - لاہور ہائیکورٹ میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے حوالے سے انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت کل ساڑھے بارہ بجے تک ملتوی کر دی گئی۔

 دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ نہیں دیا کہ منحرف ارکان کے ووٹ ڈالنے پر انتخاب کالعدم قرار دیا جائے۔ حکم یہ ہے کہ منحرف ارکان کے ووٹ شمار نہ کیے جائیں۔

جسٹس شاہد جمیل نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ کی تشریح موجودہ حالات میں لاگو ہو گی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ مخصوص نشستوں کا نوٹیفیکیشن جاری ہوتا ہے یا نہیں یہ معاملہ ہمارے سامنے نہیں۔ ہم الیکشن کو دیکھ رکھے ہیں اور سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کو دیکھ رہے ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ مارچ میں سپریم کورٹ کو 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس بھجوایا گیا۔ وزیر اعلیٰ کا انتخاب 16 اپریل کو ہوا۔ اگر ہم کہتے ہیں آج نیا الیکشن کروا دیں، اگر ہم کہیں 25 ووٹ نکال کر الیکشن کروا دیں، متعدد ممبران نے انتخاب کا بائیکاٹ بھی کیا۔

جسٹس شاہد جمیل نے ریمارکس دیئے کہ ڈی سیٹ ہونے والے ارکان کا ریفرنس بھیج دیا گیا۔ سپریم کورٹ میں معاملہ زیر سماعت تھا وزیر اعلیٰ کا الیکشن  ہوا، فیصلے کو کیسے نظر انداز کردیں؟عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ملک کا صدر اور گورنر آئین کا تحفظ کرتے ہیں۔ وہ کسی آئینی مسئلے پر خاموشی اختیار نہیں کر سکتے۔

گورنر اور صدر کے متعلق فیصلے میں ریمارکس سے متعلق جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے پوچھا فرض کریں حلف کا نوٹیفکیشن بھی اڑا دیتے ہیں؟ پھر ریمارکس کی حد تک معاملہ باقی رہ جائے گا؟

احمد اویس ایڈووکیٹ نے کہا کہ میری گزارش یہی ہے کہ گورنر اور صدر سے متعلق ریمارکس کو کالعدم کرنا پڑے گا۔ جسٹس صداقت علی خان نے استفسار کیا کہ کیا وجوہات ہیں جن کی بناء پر ان ریمارکس کو کالعدم کیا جائے؟

 جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے ریمارکس دیئے کہ آپ کہنا یہ چاہ رہے ہیں کہ گورنر اور  صدر کو سنا ہی نہیں گیا اس لئے ان ریمارکس کو کالعدم کیا جائے؟

فاضل بنچ کے ریمارکس پر کمرہ عدالت میں قہقہے بلند ہوئے۔