Thursday, December 1, 2022

کسی کو زندگی بھر کیلئے نااہل کرنا اتنا آسان نہیں، چیف جسٹس

کسی کو زندگی بھر کیلئے نااہل کرنا اتنا آسان نہیں، چیف جسٹس
October 6, 2022 ویب ڈیسک

اسلام آباد (92 نیوز) - چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال کا کہنا ہے کہ کسی کو زندگی بھر کیلئے نااہل کرنا اتنا آسان نہیں، تاحیات نااہلی صادق اور امین کے اصول پر پورا نہ اترنے پر ہوتی ہے۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے فیصل واووڈا کی نااہلی کیخلاف اپیل پرسماعت کی۔ عدالتی استفسار پر فیصل واووڈا کے وکیل وسیم سجاد نے بتایا کہ فیصل واووڈا نے امریکی سفارتخانے کو شہریت چھوڑنے کا کہا تھا۔ جسٹس منظورعلی شاہ نے پوچھا کہ کیا زبانی بیان پر شہریت چھوڑی جا سکتی ہے؟

جسٹس عائشہ ملک نے کہا بیان حلفی جمع کراتے وقت فیصل واووڈا کا امریکی پاسپورٹ منسوخ نہیں ہوا تھا، وکیل نے بتایا کہ اصل سوال تاحیات نااہلی کا ہے جو الیکشن کمیشن نہیں دے سکتا۔

چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دئیے کہ آرٹیکل 62 ون ایف کا ڈیکلئریشن عدالت ہی دے سکتی ہے۔ شواہد کا جائزہ لیے بغیر کسی کو بد دیانت یا بے ایمان نہیں کہا جا سکتا۔ زندگی بھر کیلئے کسی کو نااہل کرنا اتنا آسان نہیں۔۔۔عدالتی ڈیکلریشن کا مطلب ہے شواہد ریکارڈ کیے جائیں۔۔سپریم کورٹ اپنے فیصلوں میں آرٹیکل 62 ون ایف کے اطلاق کا معیار مقرر کر چکی ہے۔ فیصل واووڈا نے امریکی شہریت کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے بعد چھوڑی ہے۔

دوران سماعت وکیل فیصل واووڈا نے دوہری شہریت کے تحت نااہلی کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ دوہری شہریت پر رکن صرف ڈی سیٹ ہوتا ہے تاحیات نااہل نہیں۔

بعد ازاں عدالت نے سماعت بدھ تک ملتوی کردی۔