Tuesday, January 31, 2023

کراچی سے خیبر تک آٹے کا بحران سنگین، قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں

کراچی سے خیبر تک آٹے کا بحران سنگین، قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں
January 6, 2023 ویب ڈیسک

لاہور/کراچی (92 نیوز) - کراچی سے خیبر تک آٹے کا بحران سنگین ہوگیا، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں آٹے کی قیمتوں میں روز بروز اضافہ سے غریب پریشان ہونے لگا، سبسڈائزڈ آٹا بھی دستیاب نہیں۔

ملک کے سب سے بڑے صوبے میں آٹے کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔ پنجاب میں آٹے کا مسئلہ سنگین ہونے لگا، آئے روز قیمتوں میں اضافہ ہونے لگا، چکی کا آٹا بھی مہنگا ہو گیا۔ سستا آٹا بھی پہنچ سے باہر ہو گیا، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے مطابق پنجاب میں گندم کی ریلیز کم ہونے کی وجہ سے آٹے کی قیمت میں اضافہ ہوا جبکہ سبسڈائز گندم کی ریلیز کم ہونے سے مارکیٹ میں سستے آٹے کی سپلائی بھی کم کی جا رہی ہے۔

صوبائی درالحکومت لاہور میں روزانہ کی بنیاد پر آٹے کے 63 ہزار بِیگ کم سپلائی کیے جا رہے ہیں۔ آٹے کی ڈیمانڈ 2 لاکھ 35 ہزار بِیگ ہے جبکہ سپلائی صرف ایک لاکھ 72 ہزار بِیگ کی دی جا رہی ہے۔ مارکیٹ میں آٹے کی قلت پوری کرنے کےلئے 1850 روپے والے 15 کلو آٹے کی سپلائی جاری ہے۔

صوبے میں روزانہ کی بنیاد پر27 ہزار ٹن گندم کی ضرورت ہے لیکن 6 ہزار ٹن گندم کم ریلیز کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب سے چکی کا آٹا بھی غریب آدمی کی جیب پر بوجھ بن گیا ہے جس کی قیمت 150 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔

لاہور آٹا چکی ایسوسی ایشن نے گزشتہ 2 ہفتے کے دوران فی کلو قیمت میں 20 روپے کا اضافہ کیا ہے۔ آٹا چکی ایسوسی ایشن کے مطابق مارکیٹ میں گندم 5200 روپے فی من تک پہنچ چکی ہے جس کے باعث آٹا مہنگا کرنا پڑا۔ آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث شہری بلبلا اُٹھے۔

فلور ملز ایسوسی ایشن کے مطابق حکومت ملک بھر میں گندم کی ریلیز 10 ہزار ٹن بڑھا دے تو آٹے کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔

ملتان میں چکی کا آٹا ایک ماہ کے دوران 40 روپے کلو تک مہنگا ہوگیا، شہر اور گردونواح میں ایک کلو چکی کا آٹا 145 روپے میں بیچا جارہا ہے۔ فائن آٹے کا 15 روپے کا تھیلا بھی 470 روپے مہنگا ہونے کے بعد ایک ہزار، 950 روپے سے کم میں دستیاب نہیں۔

جنوبی پنجاب کے مختلف شہروں میں گندم 4 ہزار روپے من سے تجاوز کر پہنچ چکی ہے، سستا آٹا نہ ملنے سے شہری اوپن مارکیٹ سے مہنگے داموں آٹا خریدنے پر مجبور ہیں۔

شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے تاکہ انہیں ریلیف مل سکے۔

ٹوبہ ٹیک سنگھ میں بھی آٹے کی قلت کے باعث عوام کی پریشانی میں اضافہ ہو گیا ہے، ڈیمانڈ کے مطابق سپلائی انتہائی کم ہونے کے باعث شہری آٹے کے حصول کے لیے خوار ہو رہے ہیں۔

کراچی میں آٹے کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، چکی کا آٹا ایک سو پچاس روپے کلو کا ہوگیا۔ دس کلو آٹے کا تھیلا لینے کے لئے پندرہ سو روپے دینے پڑھ رہے ہیں جبکہ فائن آٹا ایک سو چالیس سے ایک سو پینتالیس روپے کلو میں فروخت ہورہا ہے یعنی دس کلو فائن آٹے کا تھیلا کہیں چودہ سو تو کہیں چودہ سو پچاس روپے میں مل رہا ہے۔ اڑھائی نمبر آٹا ایک سو تیس روپے کلو کا ہوگیا ہے۔

ایک سال کے دوران آٹے کی قیمت میں اسی روپے فی کلو تک کا اضافہ ہوا۔ دسمبر دوہزار اکیس میں میں فائن آٹا ستر روپے کلو تھا جو اب ایک سوچالیس روپے کا ہوگیا۔ چکی کا آٹا اسی روپے اضافے سے ایک سو پچاس روپے کلو کی سطح پر آگیا۔

شہری کہتے ہیں اتنا مہنگا آٹا ہوگیا کہ دو وقت کی روٹی بھی نہیں کھا سکتے۔ اٹا مہنگا ہونے سے تندورکی روٹی کی قیمت میں بھی اضافہ ہوگیا۔ چند ہفتوں کے دوران تندوری نان دس روپے اضافے سے تیس روپے کا ہوگیا۔ تندوری روٹی دس روپے اضافے سے پچیس روپے کی سطح پر آگئی ہے۔ چپاتی کی قیمت پندرہ سے س اٹھارہ روپے کردی گئی جبکہ پراٹھا تیس روپے سےبڑھا کر چالیس روپے کا کردیا گیا ہے۔

دوسری جانب پشاور میں آٹے کی قیمتوں میں بدستور اضافہ ہو رہا ہے، خیبر پختونخوا میں آٹے کا زیادہ تر انحصار پنجاب پر ہے جہاں قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کا اثر خیبر پختونخوا پر پڑتا ہے، مقامی ملوں کو 5 ہزار میٹرک ٹن گندم کا کوٹہ ملتا ہے جو محض 30 فیصد عوام کو سرکاری نرخ پر دستیاب ہوتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ آٹے کی افغانستان اسمگلنگ کے باعث خیبر پختونخوا میں آٹے کی قیمتیں بتدریج بڑھ رہی ہیں۔

آٹے کی اسی کلوگرام کی بوری کی قیمتیں 12 ہزار روپے تک پہنچ گئیں تو پشاور میں 20 روپے کی روٹی کا وزن کم کر کے آدھا کر دیا گیا، روٹی بھی غریب کی قوت خرید سے باہر ہو گئی، 20 کلو گرام کا تھیلا 2800 روپے میں خریدنا بھی اس کے بس سے باہر ہو گیا۔

حکومت خود یہ تسلیم کرتی ہے کہ 1300 روپے میں ملنے والا 20 کلو گرام کا تھیلا پوری آبادی کے لئے دستیاب نہیں لیکن صوبہ گندم میں خود کفیل نہ ہونے کے باعث آٹے کی قیمتیں کنٹرول نہیں کر سکتا۔