Wednesday, September 28, 2022

کورونا حملوں، بینک قرضوں کی عدم واپسی سے حکومت کو 5 ہزار ارب روپے کے خسارے کا سامنا

کورونا حملوں، بینک قرضوں کی عدم واپسی سے حکومت کو 5 ہزار ارب روپے کے خسارے کا سامنا
August 15, 2022 ویب ڈیسک

اسلام آباد (92 نیوز) - حکومت کو پانچ ہزار ارب روپے کے خسارے کا سامنا ہے، کورونا کے حملوں، بینک قرضوں کی عدم واپسی، ڈالر مہنگا ہونے اور اسٹاک ایکسچینج میں مندی خسارے کی وجہ بنی۔ انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن نے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ساری کہانی کھول کر رکھ دی۔

انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) نے رپورٹ میں پاکستانی معیشت کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے بتایا کہ ہے حکومت کو 5 ہزار ارب روپے کے خسارے کا سامنا ہے۔ خسارہ کوویڈ کے دور میں بڑھا، بینکوں سے لیے گئے 828 ارب کے قرضوں کی واپسی میں کمی بھی تاریخی خسارہ کا باعث بنی۔

گزشتہ 15 ماہ میں سرکاری ضمانت کے تحت جاری ہونے والے قرضے کے ڈوبنے سے صورتحال مزید بگڑ گئی۔ قرضوں کی واپسی میں کمی پٹرولیم مصنوعات میں اضافے سے ہونے والی مہنگائی کے باعث ہوئی۔ ڈالر کی اُونچی اڑان سے بھی معیشت کو دھچکا لگا۔ اسی دوران مارکیٹ میں حکومتی سکیورٹیز کی خریداری کم ہوتی گئی۔ حکومت کو پرائیویٹ سیکٹر سے فنانسنگ کی کمی بھی خسارہ بڑھا۔

آئی ایف سی نے رپورٹ میں مزید بتایا ہے کہ گزشتہ دو ماہ اسٹاک مارکیٹ کے بیٹھ جانے سے بھی حکومتی سرمایہ کاری کو ٹھیس پہنچی۔ کارپوریٹ سیکٹر کو ملنے والے قرضے کل قرضوں کا 70 فیصد تھے۔ قرضے میں سے 10 فیصد کی واپسی موخر کی گئی۔ چھوٹے اور درمیانہ درجے کے کاروبارووں کو صرف 10 فیصد قرضہ مل سکا۔ 5 ہزار ارب روپے کے خسارے کو کم کرنے کے لیے حکومت نیا ٹیکس بل تیار کرچکی ہے۔