Monday, May 16, 2022

خطے کی سکیورٹی اور استحکام ہماری پالیسی ہے، آرمی چیف

خطے کی سکیورٹی اور استحکام ہماری پالیسی ہے، آرمی چیف
April 2, 2022 ویب ڈیسک

اسلام آباد (92 نیوز) - آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے خطے کی سکیورٹی اور استحکام ہماری پالیسی ہے۔

اسلام آباد سکیورٹی ڈائیلاگ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا پاکستان کی حدود میں بھارتی سپرسونک میزائل آنے پر شدید تحفظات ہیں۔ بھارت نے میزائل گرنے کی بروقت اطلاع نہیں دی جو انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے۔ سپرسونک میزائل کے معاملے سے بھارت کے سکیورٹی سسٹم پر سوالات پیدا ہوئے۔ کئی کمرشل فلائٹ محو پرواز تھیں۔ بھارتی میزائل سے جانی نقصان ہو سکتا تھا۔ بھارتی پائلٹ کو واپس کر کے ہم نے ذمہ داری کا ثبوت دیا اور ہمارا رویہ ہمیشہ ذمہ دارانہ رہا۔ پاکستان مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتا ہے۔ دہشت گردی کےخلاف جنگ میں پاکستان نے 90 ہزار جانوں کی قربانی دی۔ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا افغان حکومت کی کارکردگی ابھی عالمی معیار کے مطابق نہیں لیکن ہمیں پابندیاں نہیں لگانی چاہیے۔ افغان عوام کی مدد کیلئے مزید کام کی ضرورت ہے۔ افغانستان پر پابندیوں سے کچھ نہیں ہو گا۔ ہمیں آگے بڑھ کر ان کی مدد کرنی چاہیے۔ لائن آف کنٹرول پر ایک سال سے حالات پر امن ہیں جو سرحد کے دونوں جانب لوگوں کیلئے اچھی بات ہے۔ پاکستان نے عالمی اداروں سے مل کر افغان بہن، بھائیوں کی مدد کی۔

آرمی چیف بولے روس اور یوکرائن کے درمیان جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یوکرائن بحران کے دوران وہاں کی عوام کو یاد رکھا جائے گا۔ پاکستان کا چین کے ساتھ سی پیک معاہدہ انتہائی اہم ہے۔ تمام ممالک کے ساتھ ہمارے دوستانہ تعلقات ہیں۔ چین کے ساتھ ہمارے دیرینہ اور دوستانہ تعلقات انتہائی اہم ہیں۔