Monday, May 16, 2022

کراچی یونیورسٹی میں خودکش دھماکہ، خاتون خود کش حملہ آور کے اصل گھر کا سراغ لگا لیا گیا

کراچی یونیورسٹی میں خودکش دھماکہ، خاتون خود کش حملہ آور کے اصل گھر کا سراغ لگا لیا گیا
April 28, 2022 ویب ڈیسک

کراچی (92 نیوز) - کراچی یونیورسٹی میں خودکش دھماکے کی تحقیقات میں پیش رفت ہو گئی۔ ذرائع کے مطابق خاتون خود کش حملہ آور کے کراچی میں اصل گھر کا سراغ لگا لیا گیا۔

ذرائع کے مطابق کراچی کے علاقے اسکیم 33 میں چھاپہ مارا گیا۔ گھر خاتون کے والد کا بتایا جاتا ہے۔ گھر سے لیپ ٹاپ اور دستاویزات قبضہ میں لے لی گئیں اور گھر کو سیل کر دیا گیا۔ کچھ عرصہ پہلے تک اسی گھر میں سرکاری نمبر پلیٹ والی گاڑیوں میں آمدورفت ہوتی رہی ہے۔ خود کش بمبار کے سات بہن بھائی ہیں ۔ خاتون خودکش بمبار کے فلیٹ کو بھی تلاشی کے بعد سیل کر دیا گیا۔ سی ٹی ڈی نے ایک مشکوک شخص کو گرفتار کر لیا۔ بیبگار امداد کو موبائل فون لنک سے گرفتار کیا گیا۔ تھانہ سی ٹی ڈی میں دہشتگردی کا مقدمہ بھی درج ہو گیا۔

واضح رہے کہ کراچی یونیورسٹی میں خاتون کے خودکش حملے کی پولیس اور حساس ادارے مختلف پہلوں سے تحقیقات کر رہے ہیں۔ حملے کی اور حملے سے چند منٹ پہلے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی  تحقیقات میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔ جائےوقوعہ سے بھی اہم شواہد ملے ہیں۔

پولیس اور حساس اداروں نے حملے سے پہلے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والی دوسری خاتون کی تلاش بھی شروع کر دی ہے۔ فوٹیج میں واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ خودکش حملہ کرنے والی خاتون رکشے میں ایک بجکر اٹھاون منٹ پر یونیورسٹی پہنچی۔ سفید اسکارف پہنے ایک خاتون پہلے ہی ڈیپارٹمنٹ کے گیٹ کے پاس کھڑی اس کا انتظار کر رہی تھی۔ دونوں خواتین نے چند لمحوں کے لئے ایک دوسرے سے گفتگو کی۔ اس کے بعد خود کش حملہ کرنے والی خاتون سڑک عبور کرکے دھماکہ کرنے والی جگہ پہنچ گئی۔ خاتون تقریبا نو منٹ تک وہاں کھڑی چائینز شہریوں کی وین کا انتظار کرتی رہی۔ دو بجکرسات منٹ وین وہاں پہنچی تو خود کش بمبار خاتوں نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔

دوسری جانب کراچی یونیورسٹی میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ داخلی راستوں پر چیکنگ کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ اسٹوڈنٹ کارڈ اور یونیورسٹی کا پاس والی گاڑیوں کو ہی یونیورسٹی میں داخلے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ رکشہ اور آن لائن ٹرانسپورٹ کا داخلہ ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ طلباء کی سہولت کے لئے مرکزی دروازے سے ڈیپارٹمنٹ تک شٹل سروس چلا دی گئی ہے۔