Saturday, October 1, 2022

جنوبی صوبہ پنجاب کا معاملہ، شاہ محمود کا شہباز شریف اور بلاول کو خط، قانون سازی پر درکار تعاون طلب

جنوبی صوبہ پنجاب کا معاملہ، شاہ محمود کا شہباز شریف اور بلاول کو خط، قانون سازی پر درکار تعاون طلب
February 10, 2022 ویب ڈیسک

اسلام آباد (92 نیوز) جنوبی صوبہ پنجاب کے معاملہ پر حکومت نے اپوزیشن سے ایک بار پھر رابطہ کرلیا۔ شاہ محمود قریشی کا شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کو خط میں صوبہ کے قیام کیلیے قانون سازی پر درکار تعاون مانگ لیا۔

وزیرخارجہ کے دونوں رہنماؤں کو مراسلے پارلیمانی چیمبرز میں موصول ہوگئے، تازہ خط گزشتہ کا تسلسل قرار دیا۔ شاہ محمود قریشی نے خطوط بحیثیت وائس چیئرمین پاکستان تحریک انصاف تحریر کیے۔

خط کے متن کے مطابق پہلے بھی آپ کی توجہ جنوبی پنجاب کے الگ صوبے کے قیام کے دیرینہ مسئلے کی طرف مبذول کرائی، پی ٹی آئی کے وائس چئیرمین کے طور پر میں نے آپ کو دعوت دی، جنوبی پنجاب کے الگ صوبے کے لئے آئینی ترمیمی بل پر اتفاق رائے کے لیے آراء مانگیں، آپ سے اپنی جماعت کے دو ارکان نامزد کرنے کی بھی درخواست کی تھی، ارکان نامزدگی پارلیمان میں ترمیمی بل کے مسودہ کی تیاری کے لیے اہم ہے، ان ارکان کو پارلیمانی کی قائم کمیٹی میں شامل کیا جائے گا۔

شاہ محمود قریشی نے مزید لکھا کہ بدقسمتی سے میرے خط کا آج تک کوئی جواب نہیں آیا، منتخب نمائندوں کی دلچسپی، عزم کے فقدان کے سبب جنوبی پنجاب کے عوام کی خواہشات تشنہ تکمیل ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کرتے ہوئے تحریر کیا قائد حزب اختلاف بطور جنوبی پنجاب سے نمائندگی رکھنے والی مرکزی سیاسی جماعت کے صدر کے، فوری جواب دیں۔

متن کے مطابق حال ہی میں اقوام متحدہ ترقیاتی پروگرام نے ’جنوبی پنجاب پائیدار ترقی کے علاقائی اہداف کے اشاریوں پر رپورٹ کا اجراء کیا۔ رپورٹ کے اجراء کے بعد ایک بار پھر میں یہ خط آپ کو ارسال کررہا ہوں۔ رپورٹ کے مطالعہ کے نتیجے میں درج ذیل پریشان کن حقائق کا انکشاف ہوا، پنجاب کے جنوبی خطے کی 55 فیصد دیہی آبادی، 50 فیصد سے کم فی کس آمدن رکھتی ہے، جنوب میں 31 فیصد آبادی قومی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے، ایک تہائی سے زائد بچے غذائیت کی کمی کا شکار ہیں، شیرخوار بچوں کی اموات کی شرح پنجاب میں سب سے زیادہ ہے۔

رپورٹ تمام سیاسی جماعتوں کے فی الفور اقدام کی ضرورت کا اعادہ کرتی ہے، ہمیں جنوبی پنجاب کے الگ صوبے کے قیام کے لئے فی الفور عمل کرنا ہوگا، یاد دلانا چاہتا ہوں کہ خطے کے ساڑھے تین کروڑ نفوس کی خواہش کی راہ میں بنیادی رکاوٹ آئینی ترمیم ہے، آئینی ترمیم کے لئے پارلیمان کی دوتہائی اکثریت درکار ہے، ساڑھے 3 کروڑ افراد کے مستقبل کے لیے ایک بار پھر آپ کو دعوت دیتا ہوں۔ آئیں جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام کے آئینی ترمیمی بل کی تیاری پر اتفاق رائے پیدا کریں۔