Friday, May 20, 2022

جانے والے واپس آجائیں معاف کردوں گا، وزیراعظم عمران خان

جانے والے واپس آجائیں معاف کردوں گا، وزیراعظم عمران خان
March 20, 2022 ویب ڈیسک

مالاکنڈ (92 نیوز) - وزیراعظم عمران خان نے منحرف ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’ جانے والے واپس آجائیں معاف کردوں گا۔‘‘

مالاکنڈ کی تحصیل درگئی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے ایم این ایز کے سودے کیے جارہے ہیں، انہیں خریدنے کی کوشش کی جارہی ہے، لوٹے اور ضمیر فروش میں فرق ہوتا ہے، جدھر اقتدار ہوتا ہے ادھر لوٹے کا منہ چلا جاتا ہے، ضمیر فروش پیسے لے کر اپنا اور اپنے ملک کا سودا کرتا ہے۔ ضمیروں کا سودا ہورہا ہے اور اسے جمہوریت کا نام دیا جارہا ہے۔

عمران خان نے کہا تحریک انصاف کے منحرف ارکان سے کہتا ہوں میرے جو ایم این ایز غلطی کربیٹھے ہیں، پارٹی کا سربراہ ایک باپ کی طرح ہوتا ہے، واپس آجائیں میں معاف کرتا ہوں۔ میں آپ کی بھلائی کے لیے کہتا ہوں چھانگا مانگا کے دن چلے گئے، سب جانتے ہیں آپ اگر پارٹی کو چھوڑیں گے تو پیسے کے لیے چھوڑیں گے، آپ جتنا مرضی کہہ ضمیر جاگ گیا ہے لیکن لوگ آپ کی بات نہیں مانیں گے، لوگ سمجھ جائیں گے آپ نے اپنے آپ کو بیچا ہے، سارا پاکستان یہی سمجھے گا کہ آپ نے اپنا ضمیر بیچا ہے، ضمیر فروش ہمیشہ کے لیے آپ کے نام کے ساتھ لگ جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ ہمارے ملک کی عدلیہ بھی دیکھ رہی ہے، الیکشن کمیشن بھی دیکھ رہا ہے۔ ہمارے ملک کے نوجوان بھی دیکھ رہے ہیں، آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے، بچوں میں بھی وہ شعور ہے جو بڑوں میں بھی نہیں ہوتا تھا۔ جو انفارمیشن لوگوں کو مل رہی ہے انسانی تاریخ میں نہیں ملتی تھی۔ اپنی زندگی کی بیس پچیس گرمیاں برطانیہ میں گزاریں، بیس پچیس سال میں کبھی نہیں سنا تھا کہ وہاں کا ممبر پارلیمنٹ اپنے ضمیر کا سودا کرے۔ وہ مسلمان نہیں لیکن ان کی اخلاقی قدریں بہت بلند ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ قوم فیصلہ کرے آپ کدھر کہاں کھڑے ہیں، امربالمعروف کا مطلب ہے اللہ نے حکم دیا ہے اچھائی کے ساتھ اور برائی کے خلاف کھڑے ہو۔ اللہ نے یہ نہیں کہا کہ آپ نیوٹرل رہو، اللہ کے حکم کے مطابق آپ نے معاشرے کو بچانے کے لیے بدی سے جہاد کرنا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ سندھ ہاؤس میں ایم این ایز کو بند کرکے، سندھ کی پولیس لاکر پہرہ دیا جارہا ہے، نوٹوں کی بوریاں لائی گئیں، جب جمہوریت کا اس طرح جنازہ نکالا جائے تو ساری قوم پر فرض ہوجاتا ہے کہ کھڑی ہو۔ مغربی ممالک میں اکثریت اچھائی کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ن لیگ کے لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں تم نے تو چوری پر آصف زرداری کو دو دفعہ جیل میں ڈالا، تم نے تو زرداری پر اربوں روپے کے کرپشن اور جعلی اکاؤنٹس کے کیس بنائے، پیپلزپارٹی والو تم نے نوازشریف پر کیس بنائے ہوئے ہیں، حدیبیہ پیپر ملز کا کیس بھی تم نے بنایا۔ تم دونوں نے تو ایک دوسرے کے خلاف کیسز بنائے تھے، شہبازشریف تم نے آصف زرداری کے پیٹ سے جو پیسہ نکالنا تھا وہ تو چوری کا تھا۔

اُنہوں نے کہا کہ فضل الرحمٰن آپ بتائیں آپ کو ڈیزل کا خطاب تو ن لیگ نے دیا تھا، ن لیگ کے رنگ باز، جو بہت کرپٹ ہے اور بڑھکیں مارتا ہے، اس نے فضل الرحمٰن کو ڈیزل اس لیے کہا تھا کیونکہ آپ نے پیپلزپارٹی کی حکومت سے ڈیزل کے پرمٹ لے کر بیچے تھے۔ آپ نے شہداء کی زمین پر بھی قبضہ کیا ہوا ہے، نیب کا کیس بھی ن لیگ کے دور میں بنا، کیا چوری صرف اس لیے بری ہے کہ آپ کا مخالف کرتا ہے، جب وہ آپ کے ساتھ مل جاتا ہے تو پھر چوری بری چیز نہیں رہتی۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ماں باپ کا درجہ ہمارے دین میں بہت مقدس ہے، ان تینوں جماعتوں کے ماں باپ سے پوچھتا ہوں جب آپ کے بچے پوچھیں گے کہ آپ تو ایک دوسرے کو چور کہتے تھے، آپ اپنے بچوں کو کیا جواب دیں گے، ان لوگوں کو شرم آنی چاہئے، یہ ملک کے ساتھ وہ کرنے جارہے ہیں جو دشمن بھی نہیں کرتا۔

اُن کا کہنا تھا کہ معاشرے جنگ ہارنے سے ختم نہیں ہوتے، معاشرے کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو اس کی اخلاقیات ختم کردیں وہ ختم ہوجائیں گے۔ اسی لیے اللہ نے ہمیں اچھائی کے ساتھ کھڑا ہونے کے لیے حکم دیا ہے، یہ لوگ ملک کی اخلاقیات تباہ کرنے جارہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں نے جواب دیا کہ میں اللہ کو جواب دہ ہوں، حکومت کا پیسہ عوام کا ہی پیسہ ہوتا ہے، اگر میں نے قوم کے پیسے سے انہیں خریدنا ہے تو اس سے بہتر ہے کہ میری حکومت چلی جائے۔ میں ایسی حکومت پر لعنت بھیجتا ہوں جو رشوت دے کر ایم این ایز کو خریدنا پڑے۔

انہوں نے کہا ٹائی کوٹ پہننے والے بے شرم انسان نے مجھے تجویز دی ہے کہ عمران خان آپ کو ’’ ایبسولوٹلی ناٹ ‘‘ نہیں کہنا چاہئے تھا، اس کے بیٹے نے بھی یہی تجویز دی۔ اس نے یہ بھی کہا کہ یورپی یونین پر تنقید نہیں کرنی چاہئے تھی، مجرم ڈرپوک اور جھوٹا اربوں روپے کی پراپرٹی پر باہر بیٹھا ہےـ مجھ سے سوال کیا گیا تھا کہ پاکستان امریکا کو اپنی بیسز افغانستان کے خلاف استعمال کرنے دے گا تو میں نے جواب دیا تھا ایبسولوٹلی ناٹ۔

اُن کا کہنا تھا کہ امریکا کی جنگ میں حصہ لینے کی وجہ سے ہمارے 80 ہزار لوگوں کی جانیں گئیں، 35 لاکھ لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑی، 100 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا، چھوٹے میاں شہبازشریف آپ سے پوچھتا ہوں ہمیں ان سے کیا ملا۔ امریکا سے بارہا کہہ چکا ہوں امن میں آپ کے ساتھ ہوں جنگ میں نہیں، یورپی یونین کے سفیروں نے پروٹوکول توڑتے ہوئے ہیں، پاکستان سے کہا روس کے خلاف بیان دیں، میں نے ان سے صحیح پوچھا تھا کہ کیا یہی بات آپ ہندوستان سے کہیں گے؟ ہم کیا ان کے خلاف ہیں جو ہم سے کہیں کہ روس کے خلاف بیان دیں۔

وزیراعظم نے کہا شہبازشریف اور اس کے بیٹے نے کہا کہ عمران خان نے بہت غلط کام کیا کہ گوروں کے سامنے یہ بات کہہ دی، شہبازشریف کی اچھی خاصیت یہ ہے کہ جب بھی کہیں بوٹ دیکھتا ہے اس کی پالش کرنا شروع کردیتا ہے۔ ہم آزاد ملک چاہتے ہیں، ہماری خارجہ پالیسی ہمارے لوگوں کی بہتری کے لیے ہو، ان کی اربوں کی جائیدادیں باہر پڑی ہیں یہ کبھی بھی قوم کے لیے کھڑے نہیں ہوں گے۔ یہ پیسے کے بت کی پوجا کرنے والے ہیں، ان کے نیچے کبھی پاکستان آزاد نہیں ہوگا۔ پاکستان کبھی کسی سپر پاور کے آگے جھک کر آگے نہیں بڑھے گا، پاکستان اسی وقت آگے بڑھے گا جب یہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو۔

عمران خان نے کہا ہم نے ساڑھے تین سال پاکستان کو پیروں پر کھڑا کرنے کی کوشش کی، ہم نے جو کام کیے کسی حکومت نے وہ کام نہیں کیے، ہمارے پیارے نبیﷺ کی شان میں گستاخی ہوتی تھی اور ہمارے لوگ اپنے ہی ملک کا نقصان کرتے تھے، میں نے ہمیشہ کہا میں یہ جنگ لڑوں گا، میں نے اقوام متحدہ میں جاکر اسلاموفوبیا کے خلاف تقریر کی، میں نے ہر فورم پر اسلاموفوبیا کے خلاف آواز بلند کی۔ اللہ کا شکر گزار ہوں کہ میں اپنے رب اور اپنے نبیﷺ کے سامنے سرخرو ہوا۔ اقوام متحدہ نے قرارداد پاس کی کہ ہر سال 15 مارچ کو اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن منایا جائے گا۔

اُنہوں نے کہا فضل الرحمٰن سے پوچھتا ہوں 30 سال میں آپ اس کے قریب بھی پہنچے، ان دونوں سابق حکمرانوں سے پوچھتا ہوں آپ نے کبھی باہر جاکر اسلاموفوبیا کے خلاف بات کی؟ آپ نے کبھی یہ بات نہیں کرنی تھی کیونکہ آپ کو ڈر تھا غیرملکی طاقتیں ناراض نہ ہوجائیں۔ اسلاموفوبیا کے خلاف جنگ ہم نے جیتی۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کورونا سے جس طرح نکلا دنیا اس کی مثال دیتی ہے، قوم میں شعور پیدا کرنے کی سب سے بڑی ذمہ داری میڈیا کی ہوتی ہے، جتنی ایکسپورٹ ہمارے زمانے میں بڑھیں اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی، ہماری حکومت نے ریکارڈ 6 ہزار ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا،  جتنی ریمیٹنسز اب آرہی ہیں ماضی میں کبھی نہیں آئی تھیں، چار بڑی فصلوں کی ریکارڈ پیداوار ہوئی ہے، آئی ٹی کی ایکسپورٹ 75فیصد بڑھ گئی ہے۔

وزیراعظم عمران خان بولے کہ ٹیکنالوجی زونز بننے کے بعد ملک سب سے آگے نکل جائے گا، ہم نے کنسٹرکشن کے شعبے میں جو سہولیات دیں اس کی وجہ سے اس شعبے میں 1500 ارب روپے آئے، جس کی وجہ سے اس شعبے سے جڑی انڈسٹریز تیزی سے چلیں۔ بینک پہلی دفعہ عام لوگوں کو گھر بنانے کے لیے قرضے دے رہے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ اسلام آباد کے بعد پہلی دفعہ ملک میں راوی سٹی کے نام سے نیا شہر بن رہا ہے۔ لاہور کو بچانے کے لیے ایک نیا ماڈرن شہر بنا رہے ہیں۔ لاہور میں سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ بنا رہے ہیں جس سے ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا ہوں گے، اگلے دو ہفتوں میں نالہ لئی کے منصوبے کا بھی اعلان کروں گا۔ لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، 11 سال سے پاکستان پر ریکوڈک کے معاملے میں جرمانہ چل رہا تھا، پاکستان پر 6 ارب ڈالر کا جرمانہ ہوا اور اس پر سود بھی لگ گیا، آج اس سے متعلق معاہدے پر دستخط کرکے آیا ہوں، اگر یہ معاہدہ نہ کرتا تو دو ہزار ارب کا ہرجانہ دینا پڑتا، ہمارا دیوالیہ نکل جاتا۔ اب ہمیں دو ہزار ارب ہرجانہ نہیں دینا پڑے گا اور دوسرا یہ کہ اب وہ پاکستان میں 9 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے آرہے ہیں۔

وزیراعظم بولے کہ بلوچستان کے لیے خوشخبری ہے کہ آنے والے پیسے سے اصل فائدہ بلوچستان کو ہی ہوگا۔ سابقہ حکمرانوں کی کرپشن کی وجہ سے رینٹل پاور کا 200 ارب کا ہرجانہ ہوگیا تھا، میں نے ترک صدر اردگان سے بات کی اور 200 ارب روپے معاف کروائے۔ قطراور آئی ڈی پیز کے ساتھ دو معاہدوں کو ری شیڈول کرکے 60، 70 ارب روپے بچائے۔

انہوں نے کہا کہ مراد سعید کو سب کے سامنے خراج تحسین پیش کرتا ہوں، تحریک انصاف کے دور حکومت میں 2021ء میں بننے والی سڑکیں 2013ء میں بننے والی سڑکوں سے بھی سستی ہیں، کروڑوں کی بچت ہوئی۔  2013ء سے 2018ء تک صرف سڑکوں کی مد میں ایک ہزار ارب روپے کی کرپشن کی گئی۔ ہم نے ساڑھے تین سال میں ان سے دوگنا سڑکیں بنائیں اور پھر بھی پیسہ بچ گیا اور وہ عوام پر خرچ ہوا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ساری دنیا میں پٹرول کی قیمت اوپر گئی، پاکستان واحد ملک ہے جس نے قیمت بڑھانے کی بجائے 10روپے لٹر کم کی، دبئی میں ان کی زمین سے تیل نکلتا ہے، آج پاکستان میں دبئی سے بھی سستا پٹرول ہے۔ ہندوستان میں پاکستان سے 70 روپے لٹر زیادہ مہنگا ہے۔ زیادہ ٹیکس اکٹھا کرکے 10 روپے پٹرول اور فضل الرحمن جبکہ 5 روپے بجلی پر کم کیے۔

ہمیشہ کوشش رہی پاکستان کو مدینے کی ریاست کے اصولوں پر کھڑا کروں، ہم نے اپنے صوبوں میں ہر خاندان کو 10 لاکھ روپے کی ہیلتھ انشور دی، ملک میں محنت کشوں کے لیے پناہ گاہیں بنارہے ہیں، غریب خاندانوں کو گھر بنانے اور کاروبار کے لیے قرضہ دے رہے ہیں، احساس راشن پروگرام کے تحت 2 کروڑ خاندانوں کو سبسڈی دیں گے۔ پاکستان میں 10 نئے ڈیم بنا رہے ہیں جو سابقہ دور میں کسی نے نہیں سوچا تھا۔  نئے ڈیمز بننے سے سستی بجلی پیدا ہوگی اور پانی کے ذخائر میں اضافہ ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا قوم سے وعدہ ہے پاکستان کو دنیا کے لیے سیاحت کا مرکز بناؤں گا، پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہم یکساں نصاب لے کر آئے ہیں، یہ کام 70 سال پہلے ہی ہوجانا چاہئے تھا، میں نے پاکستان میں رحمت العالمینﷺ اتھارٹی بنائی ہے۔

عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ان تینوں غلاموں نے بڑی سازش کرکے، پیسہ اکٹھا کرکے، باہر کے لوگوں کے جوتے پالش کرکے کہا کسی طرح بھی عمران خان کو گھر بھیج دیں۔ انہوں نے بڑا زور لگا کر یہ سازش کی، کامیابی تو اللہ دیتا ہے لیکن دل کہتا ہے تینوں غلاموں یہ میچ تم بڑی بری طرح ہارنے لگے ہو۔