Wednesday, October 5, 2022

جائیداد میں خواتین کے حقوق پر کراچی میں اہم میٹنگ کا انعقاد: انوار حیدر، انیس ہارون، شمیم ممتاز، شرمین عبید، حیا زاہد اور دیگر شخصیات کی شرکت

جائیداد میں خواتین کے حقوق پر کراچی میں اہم میٹنگ کا انعقاد: انوار حیدر، انیس ہارون، شمیم ممتاز، شرمین عبید، حیا زاہد اور دیگر شخصیات کی شرکت
September 15, 2022 ویب ڈیسک

سینئر تجزیہ نگار (کاشف شمیم صدیقی) - لیگل ایڈ سوسائٹی، نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس اور شرمین عبید چنائے (SOC)فلمز کی جانب سے شہر قائد میں ایک اہم میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔ مختلف شخصیات کے مابین ہونے والی ملاقاتی نشست کا بنیادی مقصد جائیداد میں عورتوں کے حقوق اور اس سے متعلقہ مسائل کو زیرِ بحث لانا تھا۔ پاکستان سیکرٹریٹ میں ہونے والے پروگرام کے آغاز میں سینئر ایڈوائزر، وفاقی محتسب، سید انوار حیدر نے آنے والے معزز شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور میٹنگ کو اہم قرار دیتے ہوئے گفتگو کا باقاعدہ آغاز کیا۔

لیگل ایڈ سوسائٹی کی چیف ایگزیکٹو  آفیسر حیا ایمان زاہد نے پراپرٹی میں خواتین کے حقوق پر بات کرتے ہوئے ملک میں موجودہ سیلابی صورتحال کا سامنا کرتی عورتوں کو بھی گفتگو کا محور بنایا۔ اُنکا کہنا تھا کہ سیلاب سے متاثرہ خواتین پر ذمے داریوں کا بار مزید بڑھ گیا ہے، مختلف وجوہات کی بنا پر وہ اپنا گھر بار نہیں چھوڑ سکتیں، انہیں وہیں رہنا ہے کہ جہاں وہ جس حال میں ہیں۔ UNFPA کی جانب سے حاملہ خواتین کے بارے میں بتایا گیا ہے، دیگر کئی اور معاملات کا بھی انہیں سامنا ہے، عورتوں کو لائف سیونگ اسکلز سے روشناس کروانا ضروری ہے، انہیں با اختیار بنانے کیلئے موئثر پالیسی مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔

حیا زاہد کا کہنا تھا کہ حالیہ سیلاب شاید ہمارے مستقبل کو ہی بدل کر رکھ دے، موسمیاتی تبدیلیوں کو  Opportunitiesمیں بدلنا ہو گا، خواتین کی بہتری پیش ِ نظر ہے، جائیداد میں خواتین کے حقوق پر شرمین عبید چنائے کے ساتھ مل کر پانچ  (5)دستاویزی فلمز بنائی ہیں۔

 عدالتی نظام میں خواتین کو درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے رکن صوبائی اسمبلی، شمیم ممتاز نے کہا کہ بالخصوص جائیداد سے متعلق کیس طویل عرصے تک چلتے رہتے ہیں، خواتین کو مقدمات کے لا متناہی سفر میں متعدد پریشانیوں کا سامنا رہتا ہے، شمیم ممتاز نے اسپیڈی کورٹس کا قیام عمل میں لانے کی اہمیت پر زور دیا۔

 نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس (NCHR)کی رکن انیس ہارون نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ہماری عورتیں باہمت ہیں، انہیں بااختیار بنانے کیلئے ضروری ہے کہ " سسٹم"  میں موجود خلاء کو پُر اور حائل رکاوٹوں کو ختم کیا جائے، پالیسی بننا اور پھر اس پر عملدرآمد ہونا ناگزیر ہے۔

 NowCommunities کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر فرحت پروین، سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کے عدنان خاصخیلی اورNCHRکے چندن کمار نے بھی ملتے، جلتے خیالات کا اظہار کیا۔

سید انوار حیدر نے اپنی رائے قائم کرتے ہوئے واضح کیا کہ عورتوں کی کپیسٹی بلڈنگ بنیادی امر ہے جسے تعلیم کی فراہمی سے ممکن بنایا جاسکتا ہے، انہوں نے کہا کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ، ساتھ خواتینEmpower ہوئی ہیں، عورتوں کا ڈپٹی کمشنر کے عہدوں پر فائز ہونا اور دیگر شعبہ ہائے زندگی میں امتیازی حیثیت میں شمولیت اسکی ایک عمدہ مثال ہے۔

 شرمین عبید چنائے کی دستاویزی اور انیمیٹڈ(Animated) فلموں نے نہ صرف خواتین کے مسائل کو ایک منفرد اور معیاری انداز میں اجُاگر کیا بلکہ ان مسائل کے حل میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے، شرمین نے بتایا کہ SOC  فلمز کے کام کو اسکولوں میں بھی پیش کیا جارہا ہے، دستاویزی اور انیمیٹڈ فلموں نے خواتین پر اپنا اثر قائم کیا ہے، وہ دیکھے جانے والے موضوعات پر بات کرتی ہیں،انیمیٹڈ کرداروں کو گھر، آس پڑوس اور خاندانوں  میں ڈسکس کیا جاتا ہے، با مقصد گفتگو، اپنی رائے اور خیالات کا اظہار خواتین میں اعتماد سازی کو جلاِ بخش رہا ہے، عورتوں کے جائیداد میں حقوق پر مبنی ڈٖاکیو منٹریز بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

لیگل ایڈ سوسائٹی کی جانب سے ہنزہ معین نے پراپرٹی میں خواتین کے حقوق پر سندھ میں جاری پروجیکٹ کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا، عروسہ کھٹی نے بھی بات چیت کے عمل میں بھرپور حصہ لیا۔ پروگرام کے اختتام پر خواتین کے چہروں پر آئی مسکراہٹ عورتوں کے حق میں کی جانے والی کوششوں کو دوام بخش رہی تھی۔