Monday, June 27, 2022

پنجاب اور سندھ میں کریک ڈاؤن ، میاں محمود الرشید سمیت سیکڑوں پی ٹی آئی کارکن گرفتار

پنجاب اور سندھ میں کریک ڈاؤن ، میاں محمود الرشید سمیت سیکڑوں پی ٹی آئی کارکن گرفتار
May 25, 2022 ویب ڈیسک

اسلام آباد (92 نیوز) - اسلام آباد، پنجاب اور سندھ میں کریک ڈاؤن جاری ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما میاں محمود الرشید، اعجاز چودھری سمیت سیکڑوں پی ٹی آئی کارکن گرفتار کر لیئے گئے۔

پی ٹی آئی کا حقیقی آزادی مارچ روکنے کے لیے کریک ڈاؤن جاری ہے۔ پولیس نے میاں محمود الرشید اور اعجاد چودھری سمیت 250 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔ پولیس نے میاں محمود الرشید کو اقبال ٹاؤن جبکہ اعجاز چودھری کو ماڈل ٹاؤن سے حراست میں لیا۔

پولیس کے مطابق اعجاز چودھری کو پولیس لائنز میں رکھا گیا جہاں سے انہیں نارووال جیل منتقل کیا جائے گا۔ اعجاز چودھری کے بیٹے علی چودھری نے کہا کہ والد کو غیرقانونی طور پر گرفتار کیا گیا۔

لاہور پولیس نے پی ٹی آئی  رہنما بجاش نیازی اور زبیر نیازی کے گھروں پر چھاپے مار کر بڑی تعداد میں اسلحہ برآمد کر لیا۔ بجاش نیازی نے کہا کہ بڑے ٹرانسپورٹرز کے گھر صرف نیازی نام کی وجہ سے  چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ ڈی آئی جی آپریشنز کیپٹن ریٹائرڈ سہیل چودھری نے میڈیا کو بتایا کہ اسلحہ برآمد کرکے تین افراد گرفتار کر لیے گئے۔

حقیقی آزادی مارچ روکنے کے لیے لاہور کے اندرونی اور بیرونی راستوں کو رات کو ہی کینٹیرز لگا کر بند کر دیا گیا۔ بابو صابو، ٹھوکر نیاز بیِگ، بتی چوک اور محمود گھاٹی پر گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں۔

بتی چوک پر پولیس نے پی ٹی آئی کے جمع ہونے والے کارکنوں پر لاٹھی چارج کیا۔ کارکنوں نے نعرے بازی کی اور کہا کہ گرفتاریاں دینے کے لیے تیار ہیں۔

کراچی میں دوسرے روز بھی آپریشن کیا گیا۔ اس دوران ایم این اے آفتاب جہانگیر کے گھر چھاپہ مار کر انکا بھتیجا گرفتار کیا گیا۔ لیاری میں ایم این اے شکور شاد کے گھر کے اطراف کی گلیاں سیل کر دی گئیں۔ نمائش چورنگی کے اطراف پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ شفقت محمود، ذلفی بخاری اور صداقت اعوان کے گھروں پر بھی چھاپے مارے گئے۔ مری کے ہوٹل میں پی ٹی آئی اجلاس کے دوران پولیس نے چھاپا مارا تو کئی رہنما روپوش ہو گئے۔ مختلف شہروں میں گرفتار کارکن تین ایم پی او کے تحت سات دن کیلئے نظر بند رہیں گے۔