Friday, August 12, 2022

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کارکنوں کو غیر ضروری ہراساں کرنے سے روک دیا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کارکنوں کو غیر ضروری ہراساں کرنے سے روک دیا
May 24, 2022 ویب ڈیسک

اسلام آباد (92 نیوز) - اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے کارکنوں کی گرفتاریوں کے خلاف درخواست پر پی ٹی آئی کارکنوں کو غیر ضروری ہراساں کرنے سے روک دیا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے تحریک انصاف کے کارکنوں کی گرفتاریوں اور راستوں کی بندش کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔ تحریک انصاف کے وکیل کا کہنا تھا کہ پرامن احتجاج آئینی حق ہے لیکن گزشتہ رات سے ملک بھر میں کریک ڈاؤن جاری ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ کا دھرنا کیس کا فیصلہ ہے ہم اسی کے مطابق ہدایات دے دیتے ہیں۔ 2014 میں حکومت سے اجازت لے کر دھرنا ہوا تھا۔ تب عدالت نے آرڈر کیا تھا۔ اس وقت عدالت کے سامنے پٹیشن آئی تھی کہ گرفتاریاں کی جا رہی ہیں اس لیے آرڈر کیا تھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل پارلیمنٹ لاجز میں بھی ممبران قومی اسمبلی کو ہراساں کیا گیا تھا۔ یہ تو حکومت کو دیکھنا چاہیے جو آئینی حق ہے پرامن طریقے سے کرنے دینا چاہیے۔ پرامن احتجاج آپ کا حق ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ 2014 کے آرڈر کے بعد پارلیمنٹ اور پی ٹی وی پر حملہ ہوا۔ ایک سینیر پولیس آفسیر کو زخمی کیا گیا تھا۔ اس وقت ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا گیا تھا۔ کیا 2014 کے دھرنے کے بعد جو ہوا اس کی ذمہ داری عدالت لے سکتی تھی؟اس لیے عدالت کو محتاط ہونا پڑتا ہے۔ چیف جسٹس نے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے ریلی کی درخواست دے دی ہے۔ وکیل نے اثبات میں جواب دیا۔

عدالت نے پی ٹی آئی کارکنان کو غیر ضروری ہراساں کرنے سے روکتے ہوئے آئی جی اسلام آباد اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو نوٹس جاری کر دیا۔