Sunday, June 23, 2024

کیا انڈیا پاکستان کا پانی روکنے کی قیمت چکانے کیلئے تیار ہے ؟

کیا انڈیا پاکستان کا پانی روکنے کی قیمت چکانے کیلئے تیار ہے ؟
September 26, 2016
لاہور (92نیوز) سندھ طاس معاہدہ منسوخ کرنے کی گیدڑ بھبکیاں بھارت کو مہنگی پڑیں گی۔ پاکستان کے ساتھ معاہدہ توڑا گیا تو چین بھارت کے دو بڑے آبی ذرائع پر قبضہ کر سکتا ہے۔ اس صورتحال میں بھارت اس پر شور مچانے کا اخلاقی جواز بھی کھو چکا ہو گا جبکہ بھارت کے ساتھ آبی معاہدے رکھنے والے دو پڑوسی ملکوں بنگلہ دیش اور نیپال میں بھی بے چینی پھیل جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق بھارت اڑی حملہ ڈرامے کی آڑ میں پاکستان کے خلاف برسوں پرانے جارحانہ عزائم کی تکمیل چاہتا ہے جس کے لیے اس نے پاکستان کے خلاف آبی دہشت گردی کی گیدڑ بھبکیاں شروع کر دی ہیں۔ سندھ طاس معاہدہ توڑنے کا اقدام خود بھارت کے لیے ڈراو¿نا خواب ثابت ہو سکتا ہے۔ بھارت کو یاد رکھنا چاہئے کہ آبی وسائل پر چین کے ساتھ اس کا کوئی معاہدہ نہیں۔ سندھ طاس معاہدہ ٹوٹنے کی صورت میں چین ایک بڑا کھلاڑی بن کر سامنے آ سکتا ہے۔ دریائے سندھ اور دریائے براہما پترا دونوں چین سے شروع ہوتے ہیں۔ چین دریائے سندھ کا رخ موڑنے کی پوزیشن میں ہے۔ اگر ایسا ہوا تو بھارت اپنے آبی وسائل کے 36 فیصد حصے سے محروم ہو جائے گا جبکہ دریائے براہما پترا پر چین گیارہ بڑے ڈیم پہلے ہی بنا رہا ہے۔ اگر چین براہما پترا کا پانی مکمل بند کرنا چاہے تو اس کے لیے ایسا کرنا ناممکن نہیں۔ سندھ طاس معاہدہ توڑ کر بھارت عالمی برادری میں بھی ساکھ کھو دے گا اور بھارت کے دو پڑوسی ملک بنگلہ دیش اور نیپال میں بھی بے چینی پھیلے گی۔ ان دونوں ملکوں کے ساتھ بھارت کے آبی معاہدے موجود ہیں اور دونوں ملک مستقبل میں بھارتی آبی جارحیت سے خوفزدہ ہو کر اس کا ساتھ کبھی نہیں دیں گے۔