Tuesday, August 16, 2022

بھارتی سپریم کورٹ بی جے پی کی سابق ترجمان نوپور شرما کے توہین آمیز بیانات پر برہم

بھارتی سپریم کورٹ بی جے پی کی سابق ترجمان نوپور شرما کے توہین آمیز بیانات پر برہم
July 1, 2022 ویب ڈیسک

دہلی (92 نیوز) - بھارتی سپریم کورٹ بی جے پی کی سابق ترجمان نوپور شرما کے توہین آمیز بیانات پر برہم ہو گئی۔

بھارتی سپریم کورٹ نے گستاخانہ بیان دینے والی بھارتیہ جنتا پارٹی کی معطل رہنما نوپور شرما کو ریلیف دینے سے انکار کر دیا۔ بھارتی سپریم کورٹ نے ملک  میں جاری فسادات کی جڑ نوپور شرما کو قرار دے دیا۔

بھارتی سپریم کورٹ میں بی جے پی کی معطل رہنما نوپورشرما کے گستاخانہ بیان کے حوالے سے درخواست کی سماعت ہوئی۔ دوران سماعت سپریم کورٹ نے کہا کہ بھارت میں جو کچھ ہوا ہے اس کے لیے نوپور شرما اکیلی ذمہ دار ہیں۔ سپریم کورٹ نے نوپور شرما کو گستاخانہ بیان دینے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ نوپور شرما کو ٹیلی ویژن پر آکر پوری قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔

سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ نوپورشرما نے بھارتی قوم کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے، ایک ترجمان اس طرح کے بیانات نہیں دے سکتا، کبھی کبھی طاقتور لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ سب کچھ کرسکتے ہیں اور کہہ سکتے ہیں۔

سپریم کورٹ کا مزید کہنا تھا کہ نوپور شرما نے سب کو مشکل میں ڈال دیا ہے، نوپور شرما کی شکایت پر ایک شخص کو گرفتار کیا گیا، لیکن متعدد ایف آئی آر کے باوجود اب تک نوپور شرما کو دہلی پولیس نے ہاتھ بھی نہیں لگایا۔

عدالت نے کہا اودھے پور میں جو واقعہ ہوا اس کی ذمہ دار بھی نوپور شرما ہیں، نوپور شرما کو توہین آمیز بیانات پر قوم سے ٹی وی پر آ کر معافی مانگنی چاہیے، وہ خود کو کیا سمجھتی ہیں؟ بطور پارٹی ترجمان ان کے پاس طاقت ہے تو وہ جو چاہیں کریں گی۔ بھارتی سپریم کورٹ نے نوپور شرما کی ملک بھر میں درج تمام ایف آئی آر دہلی منتقل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔