Saturday, July 2, 2022

بھارتی ریاستوں میں نئے فوجی نظام اگنی پتھ کیخلاف جاری مظاہروں میں شدت آگئی

بھارتی ریاستوں میں نئے فوجی نظام اگنی پتھ کیخلاف جاری مظاہروں میں شدت آگئی
June 17, 2022 ویب ڈیسک

نئی دہلی (92 نیوز) - بھارت میں نئے فوجی نظام اگنی پتھ کے خلاف متعدد ریاستوں میں جاری مظاہروں میں شدت آگئی۔

مودی حکومت کے ایک اور متنازعہ قانون نے پورے بھارت میں آگ لگا دی۔ کسانوں کے احتجاج کے آفٹر شاکس ابھی ختم نہیں ہوئے، بی جے پی حکومت نے فوج میں بھرتیوں کا منتازعہ قانون متعارف کرادیا۔

بھارت میں فوجی بھی اب عارضی بنیادوں پر بھرتی ہونگے۔ پراجیکٹ اگنی پتھ۔ نے بھارتی ریاستوں میں پرتشدد مظاہروں کو جنم دے دیا۔ نوجوان سڑکوں پرنکل آئے، پولیس کے ساتھ براہ راست تصادم دوسرے روز بھی جاری ہے۔

بھارتی ریاست لکھنؤ میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے ہوائی فائرنگ کی گئی۔ پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں درجنوں افراد زخمی ہوچکے ہیں۔ احتجاجی مظاہروں میں شدّت کے باعث حکام نے ضلع میں موبائل فونز اور انٹرینٹ کی سروس معطل کردی۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی اگنی پتھ سکیم کے خلاف انڈیا کی متعدد ریاستوں میں پُرتشدد مظاہرے جاری ہیں اور اس سکیم کے باعث مشتعل افراد نے حکمراں جماعت کے رہنماؤں کے گھروں پر بھی حملے کیے ہیں۔

مشتعل مظاہرین نے بہار کے ڈپٹی وزیراعلیٰ رینو دیوی اور پارٹی کے ریاستی صدر چمپرن سنجے جیوال کے گھروں پر حملہ کیا اور بہار، اتر پردیش، ہریانہ اور تیلنگنا میں ٹرینوں کو بھی آگ لگائی۔

ہریانہ کی حکومت نے بھی امن و امان کی خراب صورتحال کے پیش نظر ریاست کے متعدد علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بھی بند کر دی ہے۔ مظاہروں اور شدید تنقید کے باوجود مودی حکومت کی ہٹ دھرمی برقرار ہے۔ حکومت نے حکم نامہ جاری کرتے ہوئے پیرسے اسکیم کے مطابق بھرتیاں شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

منگل کے روز بھارت نے اگنی پتھ پروگرام متعارف کرایا تھا جس کے تحت فوج میں بھرتی کے خواہش مند 17.5 سے 21 سال تک کے امیدواروں میں سے ٹیسٹ میں کامیاب ہونے والے نوجوانوں کو 4 سال کیلئے بھرتی کیا جائے گا۔