Friday, December 2, 2022

پاکستان پر الزام تراشی بھارتی سرکار کی پرانی عادت

پاکستان پر الزام تراشی بھارتی سرکار کی پرانی عادت
اسلام آباد(92نیوز)بھارت ہو افغانستان یا پھر کوئی اور مقام بھارت کے مفادات کو جہاں بھی نقصان پہنچتا ہے نئی  دہلی  بغیر کسی تحقیق اور  تفتیش پاکستان پر الزام  لگا دیتا ہے پاکستان  ثبوت اور شواہد مانگتا ہے تو جذباتی بھارتی حکمران  آئیں  بائیں شائیں کرنے لگتے ہیں . تفصیلات کےمطابق دو ہزار آٹھ میں کابل کے بھارتی سفارت خانے پر بم حملہ ہوا تو بھارت نے کسی ثبوت کے بغیر الزام پاکستان پر لگایا اور مذاکرات سے مکر گیا۔ اسی سال ستمبر میں صدر آصف زرداری اور وزیر اعظم من موہن سنگھ نے کئی تجارتی روٹ کھولنے کا اعلان کیا لیکن چھبیس نومبر کو ممبئی حملہ ہو گیا  اور بھارت نے ایک بار پھر بات چیت کے دروازے بند کر دیئے۔ اس کے بعد بھارت نے حافظ سعید کے خلاف مقدمات چلانے کے مطالبے پر مبنی ڈوزیئر پاکستان کو بھجوایا اور بات چیت سے بھاگ گیا۔ اٹھارہ اگست دوہزارچودہ کو خارجہ سیکرٹریز مذاکرات سے پہلے بھارت نے پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کی کشمیری قیادت سے ملاقات کو بہانہ بنا کر مذاکرات سے فرار اختیار کر لیا۔ اوفا کانفرنس کے موقع پر وزرائے خارجہ کے مذاکرات طے پائے لیکن اسی روز گورداسپور میں ایک بس پر حملہ ہوا اور بھارت الزام پاکستان پر دھر کر مذاکرات سے فرار  ہو گیا۔ گزشتہ سال بائیس اگست کو مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے بھارت جانا تھا لیکن بھارت نے کشمیر پر کوئی بات نہ کرنے کااعلان کیا جس سے مذاکرات ایک بار پھرمنسوخ ہوگئے۔ پچیس دسمبر کو بھارتی وزیر اعظم اچانک پاکستان پہنچ گئے اور جامع مذاکرات میں دلچسپی ظاہر کی لیکن بھارتی اسٹیبلشمنٹ نے پٹھانکوٹ ایئربیس پر حملے کا ڈرامہ رچا کر پندرہ جنوری دوہزارسولہ کو طے شدہ ملاقات منسوخ کر دی۔